• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 161072

    عنوان: بالغ اولاد کے نماز نہ پڑھنے پر سختی کا حکم؟

    سوال: اگر کسی کے بچے بڑے ہوجائیں 23 سے 25 سال کے تو کیا ماں اور باپ کا فرض ہے کہ انہیں نماز کی یاد دلاجائی ،ا ان پر سختی کی جائے نماز کے بارے میں؟ جب کہ بچپن میں انہیں سختی کری ہو تو دبارہ سختی کی جائے ؟ پر آج کل کا بچہ کہتاہے کہ اب ہم بڑے ہوگئے ہیں ، اس بارے میں اسلام کیا کہتاہے ؟

    جواب نمبر: 161072

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:958-904/M=9/1439

    حدیث میں ہے کہ اپنی اولاد کو نماز کا حکم کرو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو مارو جب کہ وہ دس سال کے ہوجانے پر بھی نماز نہ پڑھیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن سے اولاد کی تربیت کریں اور سات سال کی عمر سے ہی ان کو نماز کی ہدایت شروع کردیں اگر وہ دس سال کی عمر ہوجانے کے بعد بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کے اوپر سختی کریں اور ماریں اگر وہ بالغ ہوجانے اور بڑی عمر ہوجانے کے بعد بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کے اوپر مزید سختی کی جاسکتی ہے اور بالغ ہوجانے کے بعد چونکہ وہ خود شرعی احکام کے مکلف ہوجاتے ہیں اس لیے خود ان پر اپنے طور پر اس کی فکر اور ا دائیگی کا اہتمام لازم ہے اور ماں باپ پر لازم ہے کہ وہ حسب استطاعت اولاد کو نماز کی تلقین، اور نماز نہ پڑھنے پر سرزنش وتنبیہ کرتے رہیں، اگر ڈانٹ ڈپٹ اور مناسب مار کے باوجود وہ نماز نہ پڑھیں تو اصلاح وتادیب کی غرض سے ان سے میل جول اور قطع تعلق قطع کرلیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند