• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 160932

    عنوان: فرائض میں قرآن كہاں سے پڑھنا چاہیے یعنی مسنون قرأت كیا ہے؟

    سوال: نماز میں پورے قرآن کو پڑھنا کیسا ہے ؟ اور اگر کوئی اخیر کے چار پارے کو مخصوص کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 160932

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1008-812/sn=8/1439

    مسنون یہ ہے کہ فجر اور ظہر میں طوال مفصل ، یعنی سورہ حجرات سے لیکر والسماء ذات البروج تک کی سورتوں میں سے پڑھا جائے اور عصر اور عشاء میں اوساط مفصل، یعنی : سورہ والسماء والطارق سے لے کر لم یکن الذین کفروا تک کی سورتوں میں سے پڑھا جائے اور مغرب میں قصار مفصل ، یعنی :سورہ اذازلزلت سے لیکر والناس تک کی سورتوں میں سے پڑھا جائے اور ا گر ان سورتو ں کے بجائے قرآن کی دوسری آیتیں پڑھی جائیں، تو جتنی بڑی سورت پڑھنا فجر میں یا عشاء میں ،ظہر میں یا عصر میں یا مغرب میں مسنون ہے ، اسی کے بقدر آیتوں کی مقدار ہونی چاہیے اور فرض نمازوں میں کسی خاص سورت کو متعین کر کے مستقل پڑھنے کا معمول بنالینا مکروہ ہے اور نوافل میں مطلقا کوئی بھی سورت پڑھی جاسکتی ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند