• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 158166

    عنوان: نماز کے اندر ستر کھل جانا؟

    سوال: کیا نماز کے اندر ستر کھل جائے اور کوئی دیکھ لے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ اور وضو کتنی چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 158166

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:470-412/D=5/1439

    (۱) ستر چھپانا نماز کے شرائط میں سے ہے، نماز کے اندر اعضائے ستر میں سے کسی عضو کے چوتھائی حصے کا تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر کھلا رہ جانا نماز کو فاسد کردیتا ہے، اس کھلے ہوئے حصے کو چاہے، کوئی دیکھ لے یا نہ دیکھے۔ البتہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔

    (۲) پیشاب اور پاخانے کے مقام سے کسی چیز کا نکلنا، یا بدن کے کسی دوسرے حصے سے کسی نجس چیز کا نکلنا، منھ بھر قئ کرنا، ٹیک لگاکر یا لیٹ کر سوجانا، نماز کے اندر بالغ آدمی کا قہقہہ لگانا، بے ہوش ہوجانا، اور پاگل ہوجانا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ وأما الشرط الثالث: فہو ستر العورة لقولہ تعالیٰ خذو زینتکم عند کل مسجد․․․ وروي عنہما أي أبي حنیفة وأبي یوسف أنہما قالا: إذا کان المصلّي محلول الجیب فنظر إلی عورتہ لا تفسد صلاتہ، وہنا ہو الذي مشی علیہ قاضي خاں (الحلبي الکبیري ۱۸۳-۱۸۴) ولو صلی الرجل ورکبتاہ مکشوفتان والفخذ مغطی جازت صلاتہ، لأن الرکبتین لم یبلغا قدر ربع الفخذ من الرکبة (أیضًا ۱۸۶) وإن أدّی مع الانکشاف رکنا یفسد ولإن لم یود رکنا ولکن مکث مقدار ما یودي فیہ رکنا بسنیتہ وذلک مقدار ثلاث تسبیحات فلم یستر فسدت صلاتہ (۱۸۹) نواقض وضو کے لیے بہشتی زیور، تعلیم الاسلام اور دیکھ لیں)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند