• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 157782

    عنوان: میں سعودیہ میں رہتا ہوں اور ہر ہفتہ اپنی جائے سکونت سے ۱۰۰ کلومیٹر دور جاتا ہوں، میرے لیے قصر واتمام کا کیا حکم ہے؟

    سوال: حضرت مفتی صاحب! میں انڈیا سے ہوں اور نوکری کی وجہ سے سعودی عرب میں رہتا ہوں۔ میں اپنے گھر سے بیوی بچوں کے ساتھ ہر ہفتہ ۱۰۰/ کلومیٹر دور جیزان جاتا ہوں شاپنگ کرنے اور بچوں کو گھومانے ۔ میرے بھائی نے مجھے بتایا کہ آپ یہاں کے مقیم نہیں ہیں آپ کو کبھی نہ کبھی انڈیا جانا ہوگا اس لیے آپ کو ہمیشہ قصر نماز پڑھنی پڑے گی کیونکہ آپ ہر ہفتہ ۱۰۰/ کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں اس لیے آپ ہمیشہ سفر میں رہیں گے، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آدمی حالت سفر میں ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ قصر نماز پڑھے، پوری نماز پڑھنے کی وجہ سے اس پر گناہ ہوگا۔ (۱) کیا میں مسافر کی طرح قصر کرتا رہوں گا؟ (۲) اگر ہاں! تو کیا میں سنتیں موٴکدہ کی جگہ اپنی قضا نمازیں کثرت سے ادا کر سکتا ہوں؟ کیونکہ میں نے پڑھا ہے کہ سفر میں سنت نمازیں ادا کرنا ضروری نہیں۔ (۳) میں ہر جمعہ میں جاتا ہوں اگر میں ایک جمعہ نہیں جا پایا اور اس کے اگلے جمعہ میں گیا تب بھی ۱۴/ دن ہوئے، کیا تب بھی میں مسافر ہی رہوں گا؟ (۴) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میرا تین ہفتہ جانے کا پروگرام نہیں ہوتا تب تو میری قصر نماز نہیں ہوگی مگر بیچ میں مجھے کسی دن پتا چلا کہ مجھے تین دن بعد جانا ہے ۱۰۰/ کلومیٹر دور ،تو کیا مجھے اس دن سے قصر نماز پڑھنی چاہئے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 157782

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:381-357/M=4/1439

    (۱) صورت مسئولہ میں جب کہ آپ سعودیہ میں محض نوکری کی وجہ سے رہائش پذیر ہیں مستقل قرار کی نیت نہیں ہے تو سعودیہ آپ کا وطن اصلی نہیں لہٰذا چونکہ آپ موضع سکونت سے ہرہفتہ ۱۰۰کلومیٹر دور شاپنگ کرنے اور بچوں کو گھومانے کے لیے جاتے ہیں اور واپسی پر اگلے ہفتہ پھر جانے کی نیت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں آپ جائے اقامت میں بھی مسافر ہی رہیں گے اور مسافر پر قصر ہے اگر مقیم امام کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے تو پوری پڑھیں گے اور تنہا پڑھنے کی صورت میں قصر کریں گے یا مسافر امام کی اقتداء میں پڑھ رہے ہیں تو قصر کریں گے۔

    (۲) جی ہاں! مسافر پر سنن ونوافل کی ادائیگی ضروری نہیں، اگر مسافر سکون وقرار کی حالت میں ہے تو سنتوں کو پڑھ لینا اولیٰ ہے اور عجلت میں ہے تو چھوڑسکتا ہے اور بہرصورت سنن ونوافل کے بجائے قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔

    (۳) جیزان سے واپس جب آپ موضع اقامت پر پہنچتے ہیں اور وہاں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ چودہ دن ہی اقامت کی نیت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں آپ موضع اقامت میں مسافر ہی رہیں گے۔

    (۴) جب کبھی جیزان سے واپسی پر موضع سکونت میں تین ہفتے ٹھہرنے کی نیت ہو تو ایسی صورت میں آپ موضع سکونت میں مقیم رہیں گے اور نمازوں میں اتمام ضروری ہوگا اگر درمیان میں دو چار دن کے بعد نیت تبدیل بھی ہوجائے تو محض نیت کی تبدیلی سے قصر کا حکم نہیں ہوگا بلکہ جب سفر شرعی کے ارادے سے اپنے مقام سے نکل پڑیں گے تب قصر کا حکم ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند