• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 156678

    عنوان: فرض نمازوں کے بعد ذکر و اذکار

    سوال: امید کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے "تعجلوا رکعتین بعد المغرب فإنہما یرفعان مع المکتوبة" یہ حدیث کس کتاب میں ہے اور اس حدیث کا کیا درجہ ہے ؟ اس حدیث کی بنیاد پر ایک عالم صاحب نے یہ بتایا کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان کے بعد فوراً سنتیں پڑھنا چاہئے ذکر واذکار نہیں کرنا چاہئے ، ذکر سنتوں کے بعد بھی کر سکتے ہیں۔ برائے مہربانی جواب ارسال فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 156678

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:280-230/N=3/1439

    سوال میں مذکور حدیث کسی معتبر کتاب میں ہماری نظر سے نہیں گذری، آپ اس کا حوالہ ان عالم صاحب ہی دریافت کریں، جنہوں نے بیان کی ؛ البتہ یہ بات صحیح ہے کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں، جیسے: ظہر، عصر، مغرب، عشا اور جمعہ، ان میں سلام کے بعد مختصر ذکر یا دعا سے فارغ ہوکر فوراً سنتوں میں مشغول ہوجانا مسنون وافضل ہے، طویل دعا یا اذکار میں لگ کر سنتوں میں تاخیرکرنا خلاف سنت اور برا ہے، نیز اس صورت میں سنتوں کا ثواب بھی کچھ کم ہوجاتا ہے۔

    فإن کان بعدھا أي: بعد المکتوبة تطوع یقوم إلی التطوع بلا فصل إلا مقدار ما یقول: اللھم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والإکرام، ویکرہ تأخیر السنة عن حال أداء الفریضة بأکثر من نحو ذلک القدر ……وقد یوفق بأن تحمل الکراھة علی کراھة التنزیہ ومراد الحلواني عدم الإساء ة ……وھو قریب من المکروہ کراھة التنزیہ فتحصل منہ أن الأولی أن لا یقرأ الأوراد قبل السنة، ولو فعل لا بأس بہ ولا تسقط السنة بذلک حتی إذا صلاھا بعد الأوراد تقع سنة موٴداة لا علی وجہ السنة……فالحاصل أن المستحب في حق الکل وصل السنة بالمکتوبة من غیر تأخیر إلا أن الاستحباب في حق الإمام أشد حتی یوٴدي تأخیرہ إلی الکراھة لحدیث عائشةبخلاف المقتدي والمنفرد الخ (غنیة المستملي، ص ۳۴۱- ۳۴۴، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، ونحوہ فی الدر المختار ورد المحتار (کتاب الصلاة، آخر باب صفة الصلاة، ۲: ۲۴۶، ۲۴۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ولو تکلم بین السنة والفرض لا یسقطھا ولکن ینقص ثوابھا ……وکذا کل عمل ینافی التحریمة علی الأصح، قنیة (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصلا، باب الوتر والنوافل، ۲: ۴۶۱)، قولہ:”ولو تکلم الخ“‘: وکذا لو فصل بقراء ة الأوراد الخ (رد المحتار)، القیام إلی أداء السنة التي تلی الفرض متصلاً بالفرض مسنون غیر أنہ یستحب الفصل بینھما کما کان علیہ السلام إذا سلم یمکث قدر ما یقول اللھم أنت السلام ومنک السلام الخ ثم یقوم إلی السنة ، قال الکمال: وھذا ھو الذي ثبت عنہ صلی اللہ علیہ وسلم من الأذکار التي توٴخر عنہ السنة ویفصل بہ بینہا وبین الفرض اھ ……وقال الکمال عن شمس الأئمة الحلواني إنہ قال: لا بأس بقراء ة الأوراد بین الفریضة والسنة فالأولی تأخیر الأوراد عن السنة فھذا ینفی الکراھة ویخالفہ ما فی الاختیار: کل صلاة بعدھا سنة یکرہ القعود بعدھا والدعاء؛ بل یشتغل بالسنة کی لا یفصل بین السنة والمکتوبة الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي ص ۳۱۱ - ۳۱۳، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، قلت: ولعل المراد غیر ما ثبت أیضاً بعد المغرب، وھو ثان رجلہ لا إلہ إلا اللہ الخ عشراً وبعد الجمعة من قراء ة الفاتحة والمعوذات سبعاً سبعاً اھ ( المصدر السابق، ص ۳۱۲)، قولہ: ”ولعل المراد الخ“: أقول: لعل ذلک لم یقو قوة الحدیث المتقدم فلذا لم ینص علیہ أھل المذھب والخیر فی الاتباع (حاشیة الطحطاوي علی المراقي)، وفی الحجة: الإمام إذا فرغ من الظھر والمغرب والعشاء یشرع فی السنة ولا یشتغل بأدعیة طویلة کذا فی التتارخانیة (الفتاوی الھندیة ۱: ۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، فھذا - ما روي عن عائشة- نص صریح فی المراد وما یتخایل أنہ یخالفہ لم یقو قوتہ أو لم تلزم دلالتہ علی ما یخالفہ فوجب اتباع ھذا النص (فتح القدیرکتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل،۱: ۳۱۴، ط:مصر )وانظر فتح القدیر (للتفصیل کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل،۱: ۳۱۳، ۳۱۴، ط:مصر) ومرقاة المفاتیح (۳: ۳۳- ۳۵، ط: دار الکتب العلمیة بیروت) ومعارف السنن (۳: ۱۱۸، ۱۱۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند) وبہشتی زیور (۱۱: ۳۲، ۳۳، رقم المسألہ: ۷، ۸) والفتاوی المحمودیة (۵: ۶۸۱، ط: دابیل) وغیرھا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند