• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 156355

    عنوان: امام كی قرأت ختم ہونے كچھ پہلے ہاتھ چھوڑدینا

    سوال: اگر کسی نے امام کے پیچھے امام کی قرآت ایک یا آدھی آیت باقی رہتے ہی ہاتھ چھوڑ دی اور اس کو عادت بنا لے تو کیا یہ یعنی مطلق چھوڑنا یا اس کی عادت بنانا حرام یا مکروہ ہوگا؟یا مباح ہے ؟

    جواب نمبر: 156355

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:238-202/M=3/1439

    امام اس لیے ہوتا ہے کہ ان کی متابعت کی جائے، مقتدی کو امام سے سبقت کرنا حدیث کی رو سے منع ہے۔ صورت مسئولہ میں مقتدی کا امام کی قراء ت سے ایک یا آدھی آیت باقی رہتے ہوئے قصداً ہاتھ چھوڑدینا مکروہ ہے اور اس کی عادت بنالینا اور بھی برا ہے۔ عن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ قال: صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم، فلما قضی الصلاة أقبل علینا بوجہہ فقال: یا أیہا الناس إني إمامکم فلا تسبقوني بالرکوع ولا بالسجود ولا بالقیام ولا بالانصراف فإني أراکم أمامي وخلفي․․․ (مسلم شریف)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند