• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 154248

    عنوان: سجدہٴ سہو كے لیے سلام كیوں پھیرتے ہیں جب كہ سلام پر نماز ختم ہوجاتی ہے؟

    سوال: مفتی حبیب الرحمن صاحب نے مسائل سجدہ سہو میں صفحہ نمبر 91 پر لکھا ہے کہ سلام کی میم پر نماز ختم ہو جاتی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم حنفی سجدہُ سہو ایسے کیوں کرتے ہیں کہ پہلے سلام پھیرتے ہیں ایک طرف؟ اس تحریر کے حوالے سے تو پہلے سلام پر ہی ہماری نماز ختم ہو جاتی ہے ، ایسے سجدہ سہو کرنا کہاں سے ثابت ہے ؟ براہ کرم، حدیث کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 154248

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1389-1400/B=1/1439

    کتاب کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ لکل سَہوٍ سَجدَتان بعد السلامِ یعنی ہرسہو کے لیے دو سجدے ہیں سلام پھیرنے کے بعد، احناف کے نزدیک پہلے ایک طرف سلام (سنت) پھیرا جائے گا اس کے بعد سہو کے دو سجدے کریں گے۔ پھر التحیات وغیرہ پڑھ کر نماز سے نکلنے والا واجب سلام پھیریں گے، واضح رہے کہ سجدہ سہو کرنے کے لیے جو سلام پھیرا جاتا ہے وہ نماز سے نکلنے کا سلام نہیں ہوتا یہ سنت سلام ہے۔ اور نماز سے نکلتے وقت جو سلام پھیرا جاتا ہے وہ واجب ہے اس سلام میں سلام کی میم پر نماز ختم ہوتی ہے، سجدہ سے پہلے جو سلام پھیرا جاتا ہے اس سلام کی میم پر نماز نہیں ختم ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند