• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1542

    عنوان:

    ہمارے یہاں موٴذن فجر اور ظہر پڑھاتے ہیں اور ان کی ڈاڑھی چھوٹی ہے (قدرتی طور پر چھٹی نہیں ہے) کیا ان کے پیچھے نماز ہوگی؟ اور جن کی ڈاڑھی قدرتی طور پر چھوٹی ہو ان کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے علاقہ میں مسجد بہت ہے۔ یہ مسجد ٹھیک گھر کے سامنے ہے دس قدم پر اور باقی مسجدیں بھی قریب ہیں؟

    سوال:

    (۱) ہمارے یہاں موٴذن فجر اور ظہر پڑھاتے ہیں اور ان کی ڈاڑھی چھوٹی ہے (قدرتی طور پر چھٹی نہیں ہے) کیا ان کے پیچھے نماز ہوگی؟ (۲) اور جن کی ڈاڑھی قدرتی طور پر چھوٹی ہو ان کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے علاقہ میں مسجد بہت ہے۔ یہ مسجد ٹھیک گھر کے سامنے ہے دس قدم پر اور باقی مسجدیں بھی قریب ہیں؟

    جواب نمبر: 1542

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 616/ ن= 612/ ن

     

    (۱) اگر وہ ایک مشت سے کم ڈاڑھی رکھتے ہیں تو وہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب کی وجہ سے فاسق ہیں، ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ویکرہ إمامة عبد وفاسق... من الفسق وھو الخروج عن الاستقامة ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر... مشی في شرح المنیة علی أن کراھة تعدیمہ کراھة تحریم.  (در مع رد المحتار: ج۲ ص۲۹۹، ط: زکریا دیوبند)

    (۲) اگر ان میں اور کوئی وجہ کراہت کی نہ ہو تو قدرتی طور پر چھوٹی ڈاڑھی کی وجہ سے ان کی امامت میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔ اور ایسے لوگوں کے پیچھے نماز بلاکراہت درست ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند