• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 154107

    عنوان: امام سے ناراضگی اور قطع تعلق كی صورت میں اس كے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلے کی جامع مسجد میں امام صاحب کے ساتھ ناراضگی ہے اور ان کے ساتھ بول چال بھی نہیں ہے کیا اس صور ت میں ان کی اقتدا ء میں نماز ہوجاتی ہے کہ نہیں ؟براہ کرم مکمل وضاحت فرمائیں ۔شکریہ

    جواب نمبر: 154107

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1379-1353/N=1/1439

    بلا وجہ شرعی امام یا غیر امام کسی بھی مسلمان شخص سے قطع تعلق کرنا اور بالکل بول چال بند رکھنا ناجائز وحرام ہے، حدیث میں اس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے اور اپنے امام اور مقتدا سے قطع تعلق رکھنا اور بھی زیادہ سخت برا ہے؛ البتہ امام سے قطع تعلق رکھنے والے کی نماز امام کی اقتدا میں ہوجاتی ہے، نماز فاسد یا واجب الاعادہ نہیں ہوتی۔

    او ر اگر قطع تعلق کی کوئی شرعی وجہ ہو تو پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کیا جائے ۔

    عن أبي أیوب الأنصاريقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یحل للرجل أن یھجر أخاہ فوق ثلاث یلتقیان فیعرض ھذا ویعرض ھذا، وخیرھما الذي یبدأ بالسلام، متفق علیہ (مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب ما ینھی عنہ من التھاجر والتقاطع واتباع العورات، الفصل الأول، ص ۴۲۷، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند