• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 153261

    عنوان: زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے کی قدرت کے باوجود کرسی پر پڑھنا؟

    سوال: آج کل مسجد میں جسے بھی تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ ایسے لوگ جو زمین پر بھی بیٹھ سکتے ہیں وہ بھی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگتے ہیں۔ اور ہر مسجد میں ۶-۵/ کرسیاں رکھی ہوتی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں اگر وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز ہو جائے گی؟ اور جو یہ فضا چل گئی ہے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی، اسے کس طرح سے روکا جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ آئندہ مسجدوں میں سب کرسی پر ہی بیٹھے نظر آئیں گے۔

    جواب نمبر: 15326101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1175-1140/N=11/1438

     کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا چونکہ حقیقت میں سجدہ نہیں کرتا؛ بلکہ سجدہ کے لیے کرسی پر بیٹھ کر صرف اشارہ کرتا ہے اور اشارہ سے سجدہ کرنا صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جو کسی طرح بھی حقیقی سجدے پر قادر نہ ہو؛ اس لیے اگر کوئی شخص کسی طرح بھی حقیقی سجدہ کرسکتا ہے تو کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے اس کی نماز نہیں ہوگی، اور جو شخص زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے، اس کی نماز اشارے سے کرسی پر بھی جائز ہے اور زمین پر بھی ؛ البتہ زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا افضل ہے۔

    آج کل بعض لوگ تو واقعی ضرورت کی بنا پر کرسی استعمال کرتے ہیں، جیسے: کمر کا شدید درد یا پیروں میں رگوں کی شدید تکلیف وغیرہ کے مریض؛ جب کہ بہت سے لوگ صرف دوسروں کی دیکھا دیکھی، جہالت ولا علمی میں معمولی عذر وبہانے پر کرسی استعمال کرتے ہیں، لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اور جن لوگوں کو واقعی عذر ہو، وہ کسی معتبر مفتی کو پوری صورت حال بتاکر ان کی اجازت کے بعد ہی کرسی پر نماز پڑھیں، محض اپنی رائے سے کرسی پر نماز نہ پڑھیں تاکہ ان کی نمازیں غارت نہ ہوں اور محنت ضائع اور عمل رائیگاں نہ ہو۔

    وإن تعذرا لیس تعذرہما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام أومأ … قاعدا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المریض ۲:۵۶۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، مستفاد:وھو- أي: الإیماء قاعداً- أفضل من الإیماء قائماً لقربہ من السجود (المصدر السابق، ص ۵۶۸)، قولہ: ”لقربہ من السجود“:أي: فیکون أشبہ بالسجود، منح (رد المحتار) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند