• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 152476

    عنوان: بغیر ڈاڑھی کے نماز پڑھانا

    سوال: میں دوبئی میں کام کرتا ہوں، اور ہمارے دفتر میں نماز پڑھنے کے لیے ایک کمرہ ہے جس میں ہم دفتر والے ظہر اور عصر کی نماز پڑھتے ہیں، اور ہمارا کوئی امام نہیں ہے۔ مجھے منیجر صاحب نے بولا ہے کہ اس کمرے کی حفاظت آپ کیا کرو، اس میں میں ظہر اور عصر کی اذان بھی دیتا ہوں اور میں اللہ کی رضا کے لیے اس کمرے کا خیال رکھتا ہوں کیونکہ جب میں نہیں ہوتا ہوں تو نہ کوئی اذان دیتا ہے اور نہ ہی پابندی سے جماعت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری ڈاڑھی نہیں ہے اور میں اس میں دو وقت کی امامت کرتا ہوں اللہ کی رضا کے لیے۔ اور اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو وہ جگہ (کمرہ) پہلے (regular) کی طرح آباد نہیں رہ پائے گی، کیا میں اسی حال میں امامت کر سکتا ہوں؟ اور اللہ کا شکر ہے میری قرأت صاف ہے تبلیغ میں سیکھنے اور سکھانے کی وجہ سے، اور میں کوشش کرتا ہوں کہ زیر زبر کا بھی خیال رکھوں۔ آخر میں امت کے لیے دعا ہے کہ اللہ امت محمدیہ کو اس رمضان کی برکت سے معاف فرمائے اور صحابہ کی زندگی کی طرح ہمیں بھی زندگی نصیب ہو۔ (آمین)

    جواب نمبر: 152476

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 913-792/D=10/1438

    جب کوئی دوسرا داڑھی والا امامت کرنے کے لیے موجود نہیں ہے تو آپ کی امامت جائز ہوگئی لیکن باشرع شخص کی امامت پر جو ثواب ملتا ہے اس سے محرومی رہے گی۔ بہرحال آپ امامت کرلیا کریں تاکہ اذان اور نماز وقت سے ہوجایا کرے۔

    ----------------------------

    جواب درست ہے آپ اگر ڈاڑھی کٹاتے ہیں تو اس سے بھی توبہ کریں اور آئندہ سنت کے مطابق ڈاڑھی رکھیں۔ (م)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند