• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 151959

    عنوان: بجلی کی چوری کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

    سوال: سرکار بنکروں کو سبسڈی والی بجلی پاورلوم ودیگرمشین چلانے کے لیے دیتی ہے ہماری مسجد کے امام جمعہ کے یہاں بھی سبسڈی والی بجلی کا کنکشن ہے جس سے ہمارے امام جمعہ اور ان کے بھائی سمیت چار ایرکنڈیشن چلاتے ہوئے پکڑے گئے اور ان کو جرمانہ بھی بھرنا پڑا اب سوال یہ ہے کہ ایسے امام جمعہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟ کیونکہ عوام کو جب سے اس کا علم ہوا ہے عوام مفتی صاحب سے نفرت کرنے لگی ہے کہ امام صاحب سب کو نصیحت کرتے ہیں اور خود چوری کے اندر ملوث ہیں اور عوام یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ گزشتہ جو نمازیں ہم سب نے ان کی اقتداء میں پڑھی ہے وہ ادا ہوئی یا ہم سب کو نماز دہرانے کی ضرورت ہے ؟ اور کیا بجلی کی چوری چوری نہیں ہے ؟

    جواب نمبر: 151959

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 853-692/D=10/1438

    بجلی کی چوری بھی چوری ہے اور چوری کا گناہ کبیرہ ہونا ہرمسلمان جانتا ہے اور دانستہ اس کا مرتکب فاسق ہوتا ہے۔

    پس سبسڈی کے طور پر بجلی جن کاموں کے لیے ملی ہے ان کے علاوہ کاموں میں استعمال کرنا چوری میں داخل ہے۔

    امام صاحب کو مطلع کردیا جائے تاکہ آئندہ وہ اس سے باز رہیں۔

    پچھلی پڑھی ہوئی نماز درست ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں لقولہ علیہ السلام صلوا خلف کل بر وفاجر امام صاحب واقعی اگر اس چوری میں ملوث تھے تو وہ خود بھی اقرار کرتے ہیں تو آئندہ کے لیے اسے ترک کردینا چاہیے تاکہ مقتدیوں کی نماز بلاکراہت درست ہوجائے ورنہ مصلیوں کو بہتر امام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند