• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 151418

    عنوان: عصر کی نماز کے بعد تسبیحات

    سوال: کیا بوجہ عذر یا کوئی اہم کام کی وجہ سے عصر کی تسبیحات کو نماز کے بعد جلد اٹھ کر راستے پر کی جاسکتی ہیں۔ اور یہ تسبیحات نماز کے فورا ًبعد دعا سے پہلے لازم ہیں؟ یا دعاء کے بعد بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر دعاء پہلے کریں اور تسبیحات بعد میں تو کیا اس میں کوئی حرج ہے ؟ براہ کرم، وضاحت فرمائیں ۔ شکریہ

    جواب نمبر: 151418

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 942-943/N=9/1438

    (۱- ۳): فجر یا عصر میں فرض نماز کے نعد جو تسبیحات پڑھی جاتی ہیں، اُن کا سلام کے بعد اور دعا سے پہلے ہی پڑھنا لازم نہیں، اگر کوئی شخص کسی ضرورت کی وجہ سے سلام کے بعد مختصر دعا کرے اور مسجد سے نکل کر راستہ میں تسبیحات مکمل کرے تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی سے بات چیت وغیرہ سے پہلے پڑھ لینا بہتر ہے۔ اور اگر کوئی عذر نہ ہو تو سلام کے بعد دعا سے پہلے ہی پڑھنا چاہیے۔

    مستفاد:ویستحب أن یستغفر ثلاثاً ویقرأ آیة الکرسي والمعوذات ویسبح ویحمد ویکبر ثلاثاً وثلاثین ویھلل تمام المائة ویدعو ویختم ب سبحان ربک (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲:۲۴۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ونحوہ في مراقی الفلاح ( مع حاشیة الطحطاوي علیہ، ص ۳۱۶، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، وفیہ أیضاً: وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”للفقراء المھاجرین تسبحون وتکبرون وتحمدون دبر کل صلاة “ یقتضي کونھا عقب السنة من غیر اشتغال بما لیس من توابع الصلاة فصح کونھا دبرھا (ص ۳۱۳)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند