• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 150874

    عنوان: تراویح میں بھی تجوید کی رعایت لازم ہے

    سوال: (۱) ہندوستان کی اکثر مساجد میں تراویح میں جو قران پڑھا جاتا ہے ، اس میں حفاظ ترتیل کا خیال نہیں رکھتے ، اس سے بھی بڑھ کر دیکھا گیا ہے امام اور سننے والے حافظ کے علاوہ کسی کو بھی قرأت سمجھ میں نہیں آتی ہے ، کیا اس طریقے سے تراویح پڑھنا درست ہے ؟ میں نے اپنی بستی کی اکثر مساجد میں اسی طرح کا عمل دیکھا ہے ، جس سے بد دل ہوکر میں نے جماعت سے تراویح پڑھنی چھوڈ دی ہے ، اب میں گھر پر تراویح پڑھتا ہوں۔ کیا میرا یہ عمل صحیح ہے ؟ کئی بار میں نے کوشش کی امام کے پیچھے تراویح پڑھنے کی لیکن مجھے امام کی قرات سے عجیب بد دلی پیدا ہوئی۔ رہبری فرماییں۔ (۲) اکثر مساجد میں بچوں کی نماز میں صف کو لیکر یہ کہا جاتا ہے کہ دو بالغ مردوں کے بیچ میں آنے سے بالغ لوگو کی نماز نہیں ہوتی، کیا واقعی ایسا ہے؟ کئی بار بچوں کے ساتھ اچھوت جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے ، اگر وہ اگلی صف میں کھڑے ہوں تو بعد میں آنے والے لوگ ان کو پیچھے دھکّا دے دیتے ہیں، بچوں کی نماز کی حفاظت کا کیا انتظام ہونا چاہے ؟ جمع کی نماز میں سب سے آخر میں بچوں کی صف لگا دی جاتی ہے ور یہ بچے نماز میں شور مچاتے ہیں، اگر ان کو بالغ لوگو کی صفوں میں دائیں بایئں کھڑا کیا جائے تو کیا اس کی اجازت ہے ؟یہاں سعودی عرب میں بچوں کو ساتھ کھڑا کرتے ہیں۔

    جواب نمبر: 150874

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1018-1051/M=9/1438

    (۱) قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھنا لازم وواجب ہے، تراویح میں بھی تجوید کی رعایت لازم ہے، اس قدر تیز رفتاری سے پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں اور الفاظ مخارج سے ادا نہ ہوں یہ درست نہیں، قواعد تجوید کی رعایت کے ساتھ تیز رفتاری ہو تو مضائقہ نہیں۔

    (۲) آپ اول وہلہ میں بد دل ہوکر جماعت ترک نہ کریں بلکہ آپ پہلے حفاظ کرام اور انتظامیہ سے مل کر اس سلسلے میں بات چیت کریں اور ان کو بتائیں کہ اس طرح پڑھنا ثواب کے بجائے گناہ ہے ا ور غلط پڑھنے کا گناہ ووبال امام پر ہوگا اگر کمیٹی اپنی لاپروائی اور غفلت کی بنا پر کسی غلط خواں حافظ یا امام کو مقرر کرتی ہے تو کمیٹی بھی جوابدہ ہوگی، اگر تمام کوشش کے باوجود حفاظ کرام کے پڑھنے میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور وہ خلاف تجوید پڑھتے رہیں تو آپ کسی دوسری مسجد میں جہاں امام تجوید کے ساتھ پڑھاتا ہو وہاں تراویح پڑھ لیا کریں اور یہ بھی نہ ہوسکے تو اپنے طور پر کسی اچھے حافظ کو مقرر کرکے اپنے گھر پہ تراویح کی جماعت کرسکتے ہیں؛ لیکن عشاء کی فرض نماز مسجد میں جماعت سے پڑھا کریں۔

    (۳) ایسا نہیں ہے کہ دو بالغ مردوں کے بیچ میں کوئی نابالغ کھڑا ہوجائے تو بالغین کی نماز نہیں ہوتی، یہ بات غلط ہے اور اگر کوئی بچہ، اگلی صف میں کھڑاہوجائے تو زبردستی یا دھکے دے کر اسے وہاں سے ہٹادینا بھی غلط ہے۔ ترتیب یہ ہے کہ اگر بچے کئی ایک ہوں تو بالغ مردوں کے پیچھے مستقل بچوں کی صف لگائی جائے اور اگر ایک ہو تو اس کو بڑوں کے ساتھ اگلی میں ایک کنارے دائیں یا بائیں طرف کھڑا کرسکتے ہیں اور بچے زیادہ ہونے اور پیچھے مستقل صف لگانے کی صورت میں بھی اگر یہ اندیشہ ہو کہ یہ سب مل کر شور مچائیں گے اور بڑوں کی نماز خراب کریں گے تو اس صورت میں بھی ان کو بڑوں کی صف میں شامل کرلینے کی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند