• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 148194

    عنوان: ”فجر کی نماز کا وقت ختم ہوا ، پندرہ منٹ بعد قضا پڑھیں“ اعلان کرنا کیسا ہے؟

    سوال: فجر کی نماز میں اکثر ایسا ہوجاتا ہے کہ مسجد جاتے ہی قضا کا اعلان ہو جاتا ہے ہمارے اطراف میں اعلان ہوتا ہے کہ اب فجر کی ادا نماز کا وقت ختم ہو گیا۔ قضا نماز اب سے پندرہ منٹ باد ادا کرے ،تو اس پندرہ منٹ کی دیر کرنے کی کیا حقیقت ہے ، میں نے مفتی زر ولی صاحب کے بیان میں سنا ہے کہ آدمی اگر جان بوجھ کر دیر نہیں کرتا اور اس کی آنکھ ہی دیر سے کھلتی ہے تو جس وقت آنکھ کھلی فورن فجر کی نماز پڑھ لے انکا کہنا ہے کہ سورج کہ نکلنے کی وجہ سے نماز میں پندرہ منٹ کی دیر نہ کرے ۔نماز فورن پڑھنا درست ہے یا پندرہ منٹ بعد ،اکثر ایسا ہوتا ہے قضا کا اعلان ہوتے وقت ہی آنکھ کھلتی ہے اور کیونکہ پندرہ منٹ بعد نماز ادا کرنے کا اعلان ہوتا ہے ، پندرہ منٹ کے بجائے وہ نماز ایک یا دو گھنٹے بعد ادا ہوتی ہے ، کیا میں فورن نماز ادا کر سکتا ہوں۔ کیا یہ اعلان صحیح نہیں ہے ۔

    جواب نمبر: 14819401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 544-539/N=5/1438

    شریعت میں قضا کا اعلان معہود نہیں ہے؛ اس لیے اس اعلان کی ضرورت نہیں۔ ہرشخص کی یہ اپنی ذمہ داری ہے کہ جس طرح وہ سفر میں جاتے وقت ٹرین وغیرہ کے اوقات کی رعایت کرتا ہے اسی طرح اس کو چاہیے کہ نمازوں کے اوقات کی بھی رعایت کرے، نماز کا معاملہ سفر سے بڑھ کر ہے اگر وقت پر بیدار نہ ہونے کا خطرہ ہو تو الارم وغیرہ لگاکر سوئے اور سونے میں جلدی کرے، سونے میں تاخیر نہ کرے، دن میں قیلولہ کرلیا کرے، آدمی نماز سے یکسر غافل ہوکر اس طرح نہ سوئے کہ جب نیند کھل جائے گی نماز پڑھ لیں گے یہ کس قدر غفلت کی بات ہے، جہاں تک اوقات مکروہ میں فجر کی نماز ادا کرنے کا مسئلہ ہے تو ان اوقات میں فجر کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ثلاث ساعات لا تجوز فیہا المکتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتی ترتفع․․․ (الہندیة: ۱/ ۵۲)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند