• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 148139

    عنوان: ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے مقتدی کو کیا پڑھنا چاہئے

    سوال: ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے مقتدی کو کیا پڑھنا چاہئے؟ جب کہ امام سورہٴ فاتحہ اور سورہ بھی پڑھتے ہیں لیکن مقتدی سن نہیں پاتے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فاتحہ ضرور پڑھنا چاہئے ورنہ نماز نہیں ہوتی، اور وہ لوگ حدیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ماننے والے لوگ کچھ نہیں پڑھتے اور نہ امام کو سنے ہیں، میں جاننا چاہتا ہوں کیا صحیح ہے؟ اگر ہوسکے تو حدیث کا حوالہ بھی دیدیں۔

    جواب نمبر: 148139

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 529-873/L=7/1438

    حنفیہ کے نزدیک خواہ نماز جہری ہو یا سری مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے، مقتدیوں کا قراء ت کرنا مکروہ تحریمی ہے، قرآن واحادیث سے اس کا ثبوت ہے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا ﴾ ”جب قرآن پڑھا جائے تو اسے بغور سنو اور خاموش رہو“ اصحاب رسول اصلی اللہ علیہ وسلم میں عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، ابوہریرہ، عبد اللہ بن مغفل رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین میں سعید بن جبیر، ابن رباح، ابراہیم نخعی، حسن بصری، امام زہری، مجاہد، قتادہ اور اکثر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ یہ آیت نماز کے متعلق اور بعض کے نزدیک جمعہ کے خطبہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۲۱/ ۲۸۰، ۲۸۱) نیز متعدد احادیث میں مقتدیوں کو خاموش رہنے کا حکم مذکور ہے: عن أبي ہریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إنما جعل الإمام لیوٴتم بہ فإذا کبر فکبروا وإذا قرأ فأنصتوا (مسلم شریف: ۱/ ۷۴، ابوداود: ۱/ ۱۰۵، ابن ماجہ: ۱۶۱، نسائی شریف: ۱/ ۱۴۴) اور مسند احمد میں ہے: عن أبي موسی قال: علمنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا قمتم إلی الصلاة فلیوٴمکم أحدکم وإذا قرأ الإمام فانصتوا․(مسند احمد: ۵/۴۱۵) اسی طرح بعض احادیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ امام کی قراء ت مقتدیوں کی قراء ت کی طرف سے کافی ہے، قال علیہ السلام: من کان لہ إمام فقراء ة الإمام لہ قراء ة․(موطا امام محمد: ۹۸، طحاوی: ۱۰۶، کتاب الآثار: ۱/ ۱۷۰، دارقطنی: ۱/ ۱۲۲، مسند امام احمد بن حنبل: ۳/ ۳۲۱) قرآن واحادیث کی بنا پر حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ مقتدی کے لیے امام کے پیچھے قراء ت کرنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے، مزید تفصیل کے لیے ”احسن الکلام في ترک القراء ة خلف الامام“ مصنفہ حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدر، مطالعہ غیر مقلدیت، تجلیات صفدر مولفہ مولانا امین صفدر صاحب، ادلہ کاملہ وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند