• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 146246

    عنوان: مسجد بہت دور ہے، کیا گھر پر نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

    سوال: میں ایسے علاقے میں رہتاہوں جہاں مسجد بہت دور ہے اور پانچوں نمازوں کے لیے اس مسجد میں جانا ممکن نہیں ہے، اس لیے میں اپنی رہائش گاہ میں ہی نماز پڑھتاہوں، میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتاہوں، وہ بھی نماز پڑھتی ہے، ہم دونوں اکثر ایک ہی وقت میں الگ سے نماز پڑھتے ہیں ۔میں نے سنا ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنے میں تنہا پڑھنے سے زیادہ ثواب ہے، براہ کرم، مناسب طریقے سے میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھ سکوں اور ہمیں زیادہ ثواب ملے؟

    جواب نمبر: 14624601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 292-266/L=3/1438

     

    آپ کی یہ بات درست ہے کہ جماعت کی نماز کا ثواب تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ ہے؛ اس لیے اگر ممکن ہو دشوار نہ ہوتو آپ مسجد جاکر جماعت ادا کیا کریں؛ البتہ اگر مسجد جانا دشوار ہو تو گھر میں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر آپ کی بیوی اور آپ دونوں مل کر باجماعت ادا کرلیا کریں تو ان شاء اللہ جماعت کا ثواب مل جائے گا، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ انصار کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے واپسی پر مسجد میں جماعت ہو چکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ازواج میں سے کسی کے گھر تشریف لے گئے اپنے اہل کو جمع کیا اور ان کے ساتھ باجماعت نماز ادا فرمائی، واضح رہے کہ بیوی اگر ساتھ مل کر نماز ادا کرتی ہے تو وہ مردوں کی طرح آپ کے برابر کھڑی نہ ہوگی؛ بلکہ آپ کے پیچھے کھڑی ہوگی۔ قال فی الشامی: (قولہ: وتکرار الجماعة) لما روی عبد الرحمن بن أبي بکر عن أبیہ ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج من بیتہ لیصلح بین الأنصار فرجع وقد صلی فی المسجد بجماعة فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی منزل بعض أہلہ فجمع أہلہ فصلی بہم جماعة“ (شامی: ۲/ ) المرأة إذا صلت مع زوجہا فی البیت إن کان قدمہا لحذاء قدم الزوج لاتجوز صلاتہما بالجماعة، وإن کان قدماہا خلف قدم الزوج إلا أنہا طویلة تقع رأس المرأة فی السجود قِبَل رأس الزوج جازت صلاتہا؛ لأن العبرة للقدم ۔ (درمختار مع الشامی: ۱/۵۷۲، کراچی) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند