• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 146192

    عنوان: امام كے پیچھے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟

    سوال: (۱) امام کے ساتھ میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو ثناء کے بعد مجھے اعوذ باللہ پڑھنا ہے یا نہیں؟ اور بسم اللہ بھی پڑھنا ہے یا نہیں؟ (۲) زید نے پہلی رکعت میں سورہٴ ناس پڑھا اور دوسری رکعت میں سورہٴ فلق پڑھا، تو نماز ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 146192

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 187-160/D=3/1438

     

    (۱) صورتِ مسئولہ میں ثناء کے بعد آپ نہ اعوذ باللہ پڑھیں او رنہ بسم اللہ پڑھیں بلکہ خاموش رہیں۔ فیأتي بہ المسبوق ․․․․․ لا المقتدي لعدمہا ․․․․․․ غیر الموٴتم بلفظ البسملة الدر/ قولہ ”غیر الموٴتم“ ہو الإمام والمنفرد، إذ لا دخل للمقتدي لأنہ لایقرأ بدلیل أنہ قدّم أنہ لایتعوذ/ ردالمختار: ۲/۱۹۱ - ۱۹۲، زکریا دیوبند۔

    (۲) صورتِ مسئولہ میں اگر زید امام تھا پھر اُس نے عمداً ایسا کیا تو نماز تو ہوگئی البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے اور اگر اُس نے نفل میں ایسا کیا چاہے عمداً ہو یا سہواً یا فرض میں سہواً ایسا ہوگیا تو نماز بلا کراہت ہوگئی۔ ویکرہ الفصل بسورة قصیرة وأن یقرأ منکوساً الخ وفي ردالمختار: أفاد أن التنکیس أو الفصل بالقصیرة إنما یکرہ إذا کان عن قصد فلو سہواً فلا، کما في شرح المنیة ․․․․ ولا یکرہ في النفل شيء من ذلک ․․․․․ وأجاب: بأن النفل لاتساع بابہ نزلہ کل رکعة منہ فعلاً مستقلاً الدر مع الردّ: ۲/۲۶۹- ۲۷۰زکریا دیوبند۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند