• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 145577

    عنوان: وہم کو دور کرنے کے لیے کوئی وظیفہ بتائیں؟

    سوال: جب نماز کے لئے تکبیر اللہ اکبر کہتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے، گلے سے آواز نہیں نکلتی، یہ وہم ہے یا بیماری؟ وہم کو دور کرنے کے لیے کوئی وظیفہ بتائیں؟ کیا نماز سے پہلے نیت دل سے کرنی ہے یا زبان سے؟ غسل کرتے وقت نیت کرنا ضروری ہوتا ہے اگر نیت نہیں کری تو غسل اور نماز ہو جاتی ہے؟

    جواب نمبر: 145577

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 068-056/D=2/1438

     

    (۱) یہ وہم بھی ہوسکتا ہے اور بیماری بھی، پس آپ کسی حکیم یا ڈاکٹر سے رجوع کریں، نماز شروع کرنے کے بعد تو یہی وظیفہ ہے کہ دل کو نماز کی طرف یکسو کرنے کی کوشش کریں اور دوسری باتوں کی طرف دھیان نہ لے جائیں۔

    (۲) دل سے ارادہ کرنے کا نام نیت ہے اس لیے جب دل سے ظہر کی نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کہہ لیا تو نیت ہوگئی اگر زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر کیونکہ دل کا خیال اِدھر اُدھر بہک جاتا ہے زبان سے کہنے کی صورت میں یکسو ہو جائے گا۔

    (۳) غسل میں نیت نہ کی ہو لیکن پورے جسم پر پانی پہنچ جائے کہیں بھی خشک نہ رہ جائے اور ناک میں پانی ڈال لیا ہو نیز کلی بھی کرلیا ہو تو غسل صحیح ہو گیا اس سے نماز پڑھنا درست ہے۔ لیکن نماز پڑھنے کی نیت سے غسل کرے گا تو غسل کا ثواب بھی ملے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند