• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 145537

    عنوان: ڈاڑھی منڈانے والی كی اذان؟

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ ہماری مسجد میں نوجوان اور عمردراز ممبران ہیں جو اذان دیتے ہیں اور نماز پڑھاتے ہیں، اذان کا وقت کچھ لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے، مگر ایک شخص نے جس کی داڑھی ہے ایک نوجوان کو داڑھی کٹوانے کی وجہ سے روک دیا ، جب کہ منع کرنے والا شخص قرآن پڑھنا نہیں جانتاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بے ریش شخص اذان دے سکتاہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 145537

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 054-193/H=3/1438

     

    داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے، جب کہ اذان دینا عبادت ہونے کے ساتھ دین کے شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے، فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ فاسق کی اذان مکروہ ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مذکورہ میں داڑھی کٹانے والے کی اذان مکروہ ہوتی ہے اور اس کو اذان دینے سے روکنا درست ہے۔ ویکرہ أذان الفاسق ولایُعاد (فتاویٰ عالمگیری: ۱/۱۱۰، طبع: اتحاد بکڈپو) فقہائے کرام نے موٴذن کے لیے درج ذیل اوصاف لکھے ہیں کہ وہ مسلمان ہو، مرد ہو، عاقل ہو، نیک صالح ہو، نماز کے اوقات اور اذان کی سنتوں سے واقف ہو، وقت کی پابندی کرنے والا اور ثواب کی نیت سے اذان دینے والا ہو۔ ثم اعلم أنہ ذکر في الحاوي القدسي من سنن الموٴذن کونہ رجلاً، عاقلاً، صالحاً، عالماً بالسنن والأوقات، مواظباً علیہ، محتسباً، ثقةً متطہراً، مستقبلاً۔ (شامی: ۲/۶۲، طبع: رکریا دیوبند) لہٰذا موٴذن کا ان اوصاف سے متصف ہونا مسنون ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند