• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 145356

    عنوان: كس كی جماعت‏ جماعت ثانیہ ہوگی؟

    سوال: ایک مسئلہ کے تعلق سے وضاحت مطلوب ہے ، مسئلہ دریافت کرنے سے قبل اس کا پس منظر جاننا بیحد ضروری ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ میرے قصبہ میں ایک جامع مسجد ہے جس کی ذمہ داری ایک قریش خاندان نباہ رہا تھا جو مسلک دیوبند سے منسلک تھا اور اس مسجد میں اقداء بھی مسلک دیوبند کا ہی ایک فرد کر رہاتھااور اس میں جماعت کا وقت ۱ بجے کا تھا پھر حالات نے رخ موڑے ، بدقسمتی سے اسی خاندان کے کچھ افراد بریلویت سے متاثر ہوگئے ، اور بریلویت کو اختیار کر لیا اور ان کی اقتداء بھی کافی حضرات نے کرلی پھر انہوں نے اپنا نیا امام بھی بنا لیا اور اسی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنے پر مُصِر ہو گئے ، دونوں فریق میں کافی بحث و مباحثہ بھی ہوا جو مجادلہ تک پہونچ گیا خیر پھر مسلک دیوبند کے افراد نے کہا کہ ہم لوگ اپنے پرانے ہی وقت ایک بجے نماز پڑھیں گے اور بریلویوں نے ساڑھے بارہ بجے پڑھنے کا اعلان کیا یعنی آدھے مصلی ۱۲:۳۰ پر نماز ادا کرتے ہیں اور آدھے مصلی ۱ بجے پڑھتے ہیں اسی پر اب عمل ہو رہا ہے ۔ اب مسئلہ یہ دریافت طلب ہے کہ ان دونوں میں کس کی نماز درست ہوتی ہے اور کس کی نہیں؟ کیا پہلی نماز ادا کرنے والوں کی نماز درست ہے یا دوسری؟ کیونکہ جماعت ثانیہ کے مسئلہ میں فقہاء کا شدید رد عمل نے ہم سب کو الجھن میں ڈال رکھا ہے ، امید کرتا ہوں کہ آپ جلد از جلد جواب ارسال فرماکر ہم سب کے قلوب میں طمأنینیت کے پھول بکھیریں گے ۔

    جواب نمبر: 145356

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 023-034/B=2/1438

     

    مسجد اللہ کا گھر اور ہماری مقدس عبادت گاہ ہے اور قابل احترام ہے ایسی مقدس عبادت گاہ میں مسلمانوں کا جماعت کے بارے میں اختلاف کرنا بہت بری بات ہے کفایة المفتی میں اسی طرح کے دیوبندی بریلوی کے آپسی جھگڑوں کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں دو جماعت ہونے پر کسی سائل نے سوال کیا ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں کس کی جماعت شرعاً معتبر ہوگی، تو اس سوال کے جواب میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب مفتی اعظم ہند نے یہ جواب تحریر فرمایا کہ ”اہل حق کی جماعت شرعاً معتبر ہوگی“ اس لیے دیوبندی حضرات کی جماعت جماعتِ ثانیہ نہ ہوگی بلکہ ان ہی کی جماعت اصل اور معتبر ہوگی اگرچہ وہ ایک بجے جماعت کریں، ویسے بھی زمانہ قدیم سے اس مسجد میں ایک ہی بجے جماعت ہوتی چلی آرہی ہے، کچھ شر پسند شر پیدا کرنے کے لیے ساڑھے بارہ بجے ظہر کی نماز پڑھنے لگے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند