• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 145277

    عنوان: تہجد اور نماز جنازہ کا طریقہ؟

    سوال: (۱) میں فتوی نہیں مانگ رہاہوں، بلکہ صرف یہ جانناچاہتاہوں کہ تہجد کی نماز پڑھنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ (۲) کیا کوئی عشاء کی نماز کے ساتھ تہجد پڑھ سکتاہے؟ (۳) امام کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟اور اگر میں خود نماز جنازہ پڑھوں تو کیا طریقہ ہے؟

    جواب نمبر: 145277

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1256-1251/M=01/1438

     (۱) جس طرح نفل نماز دو رکعت پڑھتے ہیں یعنی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ ملاتے ہیں اور دورکعت پر سلام پھیر دیتے ہیں اسی طرح تہجد کی نماز دو دو رکعت کرکے آٹھ رکعت پڑھیں، اگر آٹھ کا موقع نہ ہوتو چھ یا چار بھی پڑھ سکتے ہیں اور وقت بالکل تنگ ہوتو دو رکعت پر بھی اکتفاء کرسکتے ہیں۔

    (۲) اولیٰ او ر افضل تو یہ ہے کہ سوکر اٹھنے کے بعد اخیر شب میں تہجد پڑھیں اگر یہ ممکن نہ ہوتو نصف شب میں بھی پڑھ سکتے ہیں او ریہ بھی نہ ہوسکے تو ابتدائی رات یعنی عشاء کی نماز کے بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں۔

    (۳) امام کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد ثنا پڑھیں دوسری تکبیر کے بعد درود شریف او رتیسری تکبیر کے بعد جنازے کی دعا اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیر دیں، اگر کسی کی نماز جنازہ بالکل فوت ہوگئی ہوتو تنہا نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ جماعت کے ساتھ نماز ہوگئی تو فرضیت ساقط ہوگئی اور نماز جنازہ میں تکرار نہیں او رغائبانہ نماز جنازہ بھی حنفیہ کے یہاں مشروع نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں فقط میت کے لیے دعا اور استغفار کردے۔ ولنا ماروی أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم صلی علی جنازة فلما فرغ جاء عمر ومعہ قوم فأراد أن یصلي ثانیاً فقال لہ النبي: الصلاة علی الجنازة لاتعاد ولکن ادع للمیت واستغفر لہ وہذا نص فی الباب، وروی ان ابن عباس وابن عمرفاتتہما صلاة علی جنازة فلما حضرا مازادا علی الاستغفار لہ (بدائع زکریا: ۲/۳۷)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند