• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1435

    عنوان:

    ہمارے محلے کی مسجد میں بچوں کے آنے پر پرانے نمازی حضرات بہت ناخوش ہوتے ہیں ۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ بچوں کو گھر پر رکھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا صورت تھی؟ براہ کرم، احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    سوال:

    ہمارے محلے کی مسجد میں بچوں کے آنے پر پرانے نمازی حضرات بہت ناخوش ہوتے ہیں ۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ بچوں کو گھر پر رکھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا صورت تھی؟ براہ کرم، احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 1435

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 429/ د= 425/د

     

    مسجد میں چھوٹے بچوں کو لانے کی اجازت نہیں ہے، مسجد کا ادب و احترام باقی نہیں رہے گا اور لانے والے کو بھی اطمینان قلب حاصل نہ ہوگا، بچوں کی طرف دل لگا رہے گا۔ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم بچوں کو مسجد میں لانے سے پرہیز کرو ۔ اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ ایسے چھوٹے بچے جن کے پیشاب پائخانہ کردینے کا اندیشہ ہو ان کو لانا حرام ہے۔ اور ایسے بچے جو نماز کی اہمیت اور مسجد کے احترام سے ناواقف ہیں یا ایسے ناسمجھ ہیں کہ مسجد میں رونا یا لڑنا شروع کردیں گے، ان کو لانا مکروہ ہے۔ البتہ ایسے بچے جو سمجھ دار ہیں، نماز کی اہمیت اور مسجد کے احترام سے واقف ہیں اور دوسرے بچوں کو دیکھ کر بھی نماز خراب نہیں کریں گے ان کے لانے میں حرج نہیں ہے۔

    بچوں کو پہلے گھر پر نماز کا طریقہ اور اس کے آداب اور مسجد کا احترام سکھلانا چاہیے، جب وہ یہ چیزیں سیکھ لیں اور سمجھ دار ہوجائیں تب ان کو مسجد میں لانے کی اجازت ہے۔ قال في الشامي ویحرم إدخال صبیان و مجانین حیث غلب تنجیسھم وإلا فیکرہ (شامي: ج1 ص486)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند