• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 13879

    عنوان:

    میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وتر کے بعد تہجد نہیں پڑھ سکتے، کیا یہ لازمی ہے کہ اگر آپ تہجد پڑھنا چاہتے ہیں تو وتر سے پہلے پڑھیں اور تہجد کا وقت ہونے کا انتظار کریں؟ نماز عشاء کے بعد کیا تہجد نہیں؟ میرے سوال کا جواب جلدی سے دیں کیوں کہ میں بڑی الجھن میں ہوں کیوں کہ تبلیغی حضرات کا کہنا ہے کہ نماز عشاء پڑھ کر سو جائیں یا جاگتے رہیں پھر تہجد کا وقت ہو تو تہجد ادا کرلیں کیا یہ صحیح ہے؟

    سوال:

    میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وتر کے بعد تہجد نہیں پڑھ سکتے، کیا یہ لازمی ہے کہ اگر آپ تہجد پڑھنا چاہتے ہیں تو وتر سے پہلے پڑھیں اور تہجد کا وقت ہونے کا انتظار کریں؟ نماز عشاء کے بعد کیا تہجد نہیں؟ میرے سوال کا جواب جلدی سے دیں کیوں کہ میں بڑی الجھن میں ہوں کیوں کہ تبلیغی حضرات کا کہنا ہے کہ نماز عشاء پڑھ کر سو جائیں یا جاگتے رہیں پھر تہجد کا وقت ہو تو تہجد ادا کرلیں کیا یہ صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 1387901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1050=989/ب

     

    تہجد اصالةً یہ ہے کہ نصف شب گزرنے پر پڑھے، اگر عشاء کی نماز کے بعد سونے سے قبل تہجد کی نیت سے نوافل پڑھی تو بھی اس کی ادائیگی ہوجائے گی، نیز تہجد کا وتر سے پہلے پڑھنا ضروری نہیں ہے، افضل یہ ہے کہ وتر سب سے اخیر میں پڑھی جائے: وروی الطبراني مرفوعاً: لا بد من صلاة بلیل ولو حلب شاة وما کان بعد صلاة العشاء فھو من اللیل وھذا یفید أن ھذہ السنة تحصل بالتنفل بعد صلاة العشاء قبل النوم في معجم الطبراني من حدیث الحجاج بن عمرو رضي اللہ قال: یحسب أحدکم إذا قام من اللیل یصلي حتی یصبح أنہ قد تہجد إنما التہجد المرء یصلي الصلاة بعد رقدہ (رد المختار مطلب في صلاة اللیل: ۲/۲۴ وعن ابن عمر رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم اجعلوا آخر صلاتکم باللیل وتراً (رواہ مسلم بحوالہ مشکاة المصابیح: ۱۱۱، باب صلاة الوتر)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند