• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1347

    عنوان:

    نماز ادا کرنے کے لیے جو مصلی بچھایا جاتا ہے اس پر کعبة اللہ یا مسجد نبوی کی تصویر ہوتی ہے۔ سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے کا حصہ اس پر آتا ہے۔ نماز کے بعد امام دعا کے لیے جب بیٹھتے ہیں تو سرین کا حصہ اور پیر کے پنجے اس تصویر پر آتے ہیں۔ کیا ایسے مصلے پر نماز پڑھنا اور اس پر سرین ٹکا کر بیٹھنا جب کہ سرین حرمین شریفین کی تصویر پر ہو، صحیح ہے؟

    سوال:

    نماز ادا کرنے کے لیے جو مصلی بچھایا جاتا ہے اس پر کعبة اللہ یا مسجد نبوی کی تصویر ہوتی ہے۔ سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے کا حصہ اس پر آتا ہے۔ نماز کے بعد امام دعا کے لیے جب بیٹھتے ہیں تو سرین کا حصہ اور پیر کے پنجے اس تصویر پر آتے ہیں۔ کیا ایسے مصلے پر نماز پڑھنا اور اس پر سرین ٹکا کر بیٹھنا جب کہ سرین حرمین شریفین کی تصویر پر ہو، صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 1347

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 421/ د= 404/د

     

    مصلے پر کعبة اللہ یا مسجد نبوی کی بنی ہوئی تصویریں گو اصل کعبة اللہ یا مسجد نبوی کے حکم میں نہیں ہیں، مگر معظم و محترم چیز کی شبیہ و تصویر ہونے کی بنا پر لائق ادب ہے؛ اس لیے ایسے مصلے پر نماز پڑھنے سے احتیاط کرنی چاہیے، جن مصلوں پر یہ تصویر نہ بنی ہون ان کا استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند