• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 12431

    عنوان:

    حضرت رات کی آخری نماز کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔ کیا رات میں اخیر میں وتر ہی پڑھنی چاہیے، وتر کے بعد کوئی نفل نہیں پڑھ سکتے ہیں؟ پاکستان میں حضرت زروالی صاحب دامت برکاتہم کی تحقیق ہے کہ وتر کے بعد کوئی نفل نہیں پڑھنا چاہیے۔ ان کی تحقیق آپ اس ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں: (http://ahsanmedia.com/IslamicStuff/Tasneef?Ahsan_Tahqeeq.pdf) ۔ تو کیا رات کو تہجد کے بعد ہی اخیر میں وتر پڑھنا چاہیے؟

    سوال:

    حضرت رات کی آخری نماز کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔ کیا رات میں اخیر میں وتر ہی پڑھنی چاہیے، وتر کے بعد کوئی نفل نہیں پڑھ سکتے ہیں؟ پاکستان میں حضرت زروالی صاحب دامت برکاتہم کی تحقیق ہے کہ وتر کے بعد کوئی نفل نہیں پڑھنا چاہیے۔ ان کی تحقیق آپ اس ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں: (http://ahsanmedia.com/IslamicStuff/Tasneef?Ahsan_Tahqeeq.pdf) ۔ تو کیا رات کو تہجد کے بعد ہی اخیر میں وتر پڑھنا چاہیے؟

    جواب نمبر: 12431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 877=738/د

     

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے شروع حصہ درمیانی حصہ اور اخیر حصہ تینوں میں وتر کا پڑھنا ثابت ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اخیر رات میں پڑھا جائے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر یہی معمول تھا، اسی طرح مستحب اور افضل یہ ہے کہ جتنے نوافل پڑھنا چاہے وتر سے پہلے پڑھ لے اور وتر اخیر میں پڑھے اس کے بعد نوافل نہ پڑھے اگر پڑھ لے تو مباح ہے اور حدیث اجعلوا آخر صلاتکم وترًا میں امر مستحب پر محمول ہے جیسا کہ صاحب مرقات نے ذکر کیا ہے: اجعلوا أي أمر مندوب (مرقاة:۳/۱۶۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند