• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1043

    عنوان: قرآن میں سورہٴ نساء آیت ۱۰۱ میں ہے کہ سفر کے دوران اگر دشمن کے نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو تو نماز کو مختصر کرسکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب سفر میں دشمن کا کوئی خوف نہیں ہے تو ہم نماز کیوں قصر کرتے ہیں؟

    سوال: قرآن میں سورہٴ نساء آیت ۱۰۱ میں ہے کہ سفر کے دوران اگر دشمن کے نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو تو نماز کو مختصر کرسکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب سفر میں دشمن کا کوئی خوف نہیں ہے تو ہم نماز کیوں قصر کرتے ہیں؟

    جواب نمبر: 1043

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  707/ج = 707/ج)

     

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور فعل سے بیان فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں مذکورہ قید پہلے قید احترازی تھی پھر قید اتفاقی ہوگئی؛ اس لیے سفر شرعی میں کافروں (دشمنوں) کے پریشان کرنے اور اذیت پہنچانے کا اندیشہ ہو یا نہ ہو، بہرصورت نماز میں قصر کرنا ہے۔ عن یعلی بن أمیة قال: قلت لعمربن الخطاب: إنما قال اللہ تعالیٰ: اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلاَةِ اِنْ خِفْتُمْ اَیْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فقد أمن الناس قال عمر: عجبت مما عجبت منہ فسألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: صدقة تصدّق اللہ بھا علیکم فأقبلوا صدقتہ رواہ مسلم (مشکوة شریف: ص۱۱۸) وعن حارثة بن وھب الخزاعي قال: صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن أکثر ما کنا قط وآمنہ بمنی رکعتیں متفق علیہ (حوالہ بالا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند