• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 603995

    عنوان:

    ناپاك آدمی كو مسجد میں بلانا؟

    سوال:

    ہماری مسجد میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص نماز بعد پانی دم کرانے کے لئے گلاس میں پانی لے کر مسجد کی حد سے باہر گھڑا تھا، ایک صاحب نے کہا کہ آؤ مسجد کے اندر آ جاؤ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں اندر نہیں آ سکتا کیونکہ میں ناپاک ہوں،تو ان صاحب نے کہا کہ کوئی بات نہیں آ جاؤ بہر حال وہ شخص ان صاحب کی بات مان کر مسجد کی حد میں داخل ہو گیا، اس واقعہ کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان سے کہا کہ جب وہ شخص کہہ رہا تھا کہ میں ناپاک ہوں تو آپ نے اسے مسجد میں کیوں بلایا جب کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ناپاک شخص کا مسجد میں بلا عذر داخل ہونا گناہ ہے ؟ اس پر ان صاحب نے کہا کہ آج کل لوگوں کو پاکی ناپاکی کا علم نہیں ہوتا لوگ پیشاب کے بعد استنجاء نہ کرکے سوچتے ہیں کہ وہ ناپاک ہو گئے اسی لئے میں نے اسے اندر بلا لیا، اس پر دوسرے صاحب نے کہا کہ ممکن ہے وہ حقیقة ناپاک یعنی جنبی رہا ہو اور آپ کے کہنے کی بنا پر اندر آ گیا ہو یا جنبی نہ بھی رہا ہو بلکہ استنجاء نہ کرنے ہی کی بنا پر خود کو ناپاک سمجھ رہا ہو پھر بھی اندر بلانا مناسب نہیں تھا کیونکہ پیشاب کے بعد استنجاء نہ کرنے کی بنا پر کپڑوں میں پیشاب لگ ہی جاتا ہے جو معفو عنہ مقدار سے بڑھ بھی جاتا ہے ، اس صورت میں وہ خود تو ناپاک نہ سہی اس کا کپڑا ناپاک ہوگا اور یہ بھی مسئلہ ہے کہ ناپاک کپڑوں کے ساتھ مسجد میں نہیں آنا چاہئے ، تو عرض یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو جو خود کو ناپاک بتا رہے ہوں بلا تحقیق کئے مسجد کی حد میں بلا لینا درست ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 603995

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:799-621/L=8/1442

     جو شخص یہ کہے کہ میں ناپاک ہوں مسجد نہیں آسکتا اس کو مسجد میں بلانے سے احتیاط کرنا چاہیے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند