• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 601749

    عنوان:

    دعا مانگنے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟

    سوال:

    سوال یہ ہے میرا کی دعا میں سر جھکانا چاہئے؟ یہ درست ہے؟ کیا یا ہاتھو کی طرف دیکھنا چاہئے؟ اور کئی لوگ نماز میں سلام کے بعد آسمان کی طرف آنکھیں کرکے دعا مانگتے ہیں، اور کیا کھڑے ہوکر بھی دعا مانگ سکتے ہیں ہاتھ اٹھاکر آسمان کی طرف منہ اور آنکھ کرکے سلام کے پھیرنے کے بعد یا سجدے میں مانگ سکتے ہیں ؟ سلام پھیرنے کے بعد. .. سہی طریقہ کیا ہے؟ دعا مانگنے کا طریقہ بتائیں، بڑی مہربانی ہوگی۔ یہ جو اپر پوچھا ہے، میں نے سب سے پہلے میسیج میں وہ سلام کے بعد کا طریقہ بتائیں۔ ایک بات اور ،یہ مجھے معلوم ہے کہ نماز پڑھتے وقت سجدے میں دعا کر سکتے ہیں، آخر کے سجدے میں یا دونو سجدوں میں ے ضروری ہے آخری رکعت کے؟

    براہ کرم، جواب دیں۔ جزاک اللہ خیر

    جواب نمبر: 601749

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:331-360/N=6/1442

     (۱): دعا میں تھوڑا سا سر جھکاسکتے ہیں؛ البتہ نگاہ ہتھیلیوں کی طرف رہے، دونوں ہاتھ سینہ کے مقابل ہوں اور دعا میں سر اتنا نہ جھکائے کہ ٹھوڑی سینہ سے لگ جائے۔

    (۲):جی ہاں! کھڑے ہوکر بھی دعا مانگ سکتے ہیں اور دعا میں بہتر یہ ہے کہ ہاتھ سینے کے مقابل ہوں اور دعا میں چہرے کے مقابل تک ہاتھ اٹھانا بھی ثابت ہے۔

    (۳، ۵):نماز مکمل ہونے پر جب سلام پھیردیا جائے تو دعا مستحب ہے، اور نفل نماز کی کسی رکعت کے پہلے یا دوسرے سجدے میں عربی زبان میں وہ دعا مانگ سکتے ہیں، جس کا بندوں سے سوال نہ کیا جاسکے، جیسے: مغفرت اور حصول جنت وغیرہ کی دعا۔

    (۴):سلام پھیر کر استغفار وغیرہ پڑھ کر دعا کی جائے۔ اور جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں، اُن میں مختصر وجامع دعا کی جائے اور جن کے بعد سنتیں نہیں ہیں، اُن میں حسب سہولت لمبی دعا کرنے میں کچھ حرج نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند