• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 600006

    عنوان: قطع تعلقس سے متعلق

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان دینِ اسلام کی روشنی میں کہ میری منگنی ماموں کے گھر ہوئی تھی۔ جو تقریبا 12 سال تک رہی۔ پھر میری کزن نے مجھ سے کہا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کسی سے بھی نہیں۔ میں نے اپنی اس سے محبت کا بتایا پر اس نے نہ سنی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم اس رشتے سے انکار کردو تومیں نے اس کا کہا نہ مانا۔کیونکہ مجھے اس سے محبت تھی۔اور اگر انکار ہوتا تو امی اور ماموں آپس میں خفا ہو جاتے ۔ خیر پھر یہ طے ہوا کہ وہ خود انکار کرے تو کرے پر میں نہیں انکار کروں گا۔پر یہ سب میں نے اپنی امی کو بھی بتا دیا۔ امی نہ مانی کہ لڑکیاں ایسے کہتی رہتی ہیں۔ میں خاموش ہو گیا۔ ساتھ ہی ساتھ مجھے امید تھی وہ ایسا نہیں کرے گی۔ اسکی بڑی بہن کی منگنی میرے بڑے بھائی سے بھی تھی۔ امی بڑے بھائی کی شادی کرنے ماموں کے گھر جاتیں تو ماموں ٹال مٹول کرتے ۔ جب امی زور دیتی تو ان کی لڑائی ہو جاتی۔ ہمارے کہنے کے باوجود میرے ماموں دونوں شادیاں اکٹھی کرنے پر راضی نہ ہوئے ۔ تو میرے بڑے بھائی کی شادی ہو گئی۔ دو سال بعد میں نے اپنی کزن سے رابطہ کیا کہ تمھارا کیا ارادہ ہے تو اس نے جواب دیا میں پہلے ہی ان کار کر چکی ہوں۔ تو میں نے اس کو تین دن کا وقت دیا اگر وہ انکار کرنا چاہتی ہے تو کردے ۔ ورنہ میں ماموں سے خود بات کروں گا۔ تیسرے دن اس نے بتایا کہ میں نے اپنے والدین کو بتا دیا ہے وہ کوئی راستہ نکالیں گے ۔ میں نے امی کو ماموں کے پاس جانے کا کہا تو وہ چلی گئیں۔ ماموں کو بتایا کہ آپکی بیٹی نے انکار کردیا ہے ۔ تو ماموں نے کہا جب اس نے انکار کر دیا ہے تو۔ میں اسکی شادی اگر کروں تو آپ اسکی ذمہ داری لیں گے ۔ امی نے کہا ہم کیسے ذمہ داری لیں۔ پر ماموں نے اپنی بیٹی سے نہ پوچھا کہ بات کیا ہے ۔ خیر ماموں امی ناراض ہوگئے مجھے شادی کی فکر تھی کہ میں 34 کا ہونے والا تھا۔ رشتہ ڈھونڈا، اور جون 2020 میں میری شادی کراچی سے ہو گئی۔ الحمد للہ۔ جب سے منگنی ٹوٹی میں ان کے گھر نہیں گیا۔ وہ مجھے اچھی لگتی ہے ۔اسی ڈر سے نہیں گیا کہ میرا اور اسکا آمنا سامنا نہ ہو۔ باقی انکے گھر والے ہمارے گھر آتے ہیں اور ہمارے بھی وہاں جاتے ہیں۔ پر ہم دونوں نہیں۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہمیں بھی ان کے گھر جانا چاہئے کہ قطع تعلقی میں نہ آجائے پر وہ جانے کو آمادہ نہٰیں کبھی کبھی میری کزن کے متعلق سوالات بھی پوچھتی رہتی ہے ۔ میری اہلیہ الحمد للہ اچھی ہے ۔ پر میرا دل بھی ماموں کے گھر جانے کو نہیں کرتا۔ پر جب وہ یا انکے گھر والے سامنے آئیں تو میں سلام دعا کر لیتا ہوں۔ 1۔ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ 2۔کیا میرا عمل قطع تعلقی میں تو نہیں آئے گا؟ 3۔میرے دل میں ابھی بھی اس کزن کی محبت ہے ۔ اس کا کیا کروں؟

    جواب نمبر: 600006

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 48-75/H=02/1442

     (۱) سامنے آنے پر سلام دعاء کرلیتے ہیں بہتر ہے۔ گاہے گاہے اپنے ماموں سے فون پر رابطہ کرکے خیر خیریت معلوم کرلیا کریں ان کے حق میں دعاء خیر کرتے رہیں اگر اتنا کرتے رہیں گے تو قطع تعلقی میں شمار نہ ہوگا۔

    (۲) نمبر ایک کے تحت جواب آگیا۔

    (۳) اس (ماموں زاد بہن) سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں محبت کاخیال آنے پر لا حول ولا قوة إلا بالہ تین مرتبہ پڑھ کر دفع کرکے مشاغل میں لگ جایا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند