• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 32730

    عنوان: اگر کچھ لوگ اجتماعی طورپر کسی مسلمان میاں بیوی کی بات کو سنے اوراس کے موبائل فون کی بات کو سنے یا کمپیوٹر کی چیٹنگ(بات چیت) کو جاسوس کی طرح تحقیق کرے تو ایسے لوگوں سے بدلا لینے اور ان کو اس اجتماعی گناہ سے روکنے کے لیے کیا ان کی چھپی ہوئی باتوں کو جاننا جائز ہے؟

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں کسی کو ذلیل کرنے کے اراد ہ سے اس کی چھپی ہوئی باتوں کو جاننا حرام ہے۔ اگر کچھ لوگ اجتماعی طورپر کسی مسلمان میاں بیوی کی بات کو سنے اوراس کے موبائل فون کی بات کو سنے یا کمپیوٹر کی چیٹنگ(بات چیت) کو جاسوس کی طرح تحقیق کرے تو ایسے لوگوں سے بدلا لینے اور ان کو اس اجتماعی گناہ سے روکنے کے لیے کیا ان کی چھپی ہوئی باتوں کو جاننا جائز ہے؟ اور اسلام میں اس کا بدلا کیا ہے؟

    جواب نمبر: 32730

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 985=820-7/1432 کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی ٹوہ میں لگے نہ ابتداءً ایسا جائز نہ ہی انتقاماً ایسا کرنا جائز ہے۔ اسے خود یا کسی بڑے آدمی کے ذریعہ سمجھادیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند