• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 19370

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو نو سال ہوگئے ہیں میرے شوہر بہت اچھے اور شریف ہیں۔میری شادی کے بعد میری سسرال والے مجھ سے بہت بدتمیزی کرتے ہیں اور میرے شوہر یہ دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ اللہ پر چھوڑ دو اور عفو و درگزر سے کام لو۔ اسلام کے لحاظ سے ایک مسلم شوہر کے سامنے اگر اس کے گھر والے اس کی بیوی کی بے عزتی کریں او راس پر تہمت لگا ئیں تو شوہر کا کیا فرض ہے آیا کہ بڑے لوگوں کے سامنے چپ ہوجائے یا بیوی کو اپنی عزت سمجھ کر سب کا مقابلہ کرے۔ میرے شوہر زندگی کے ہر معاملہ کو اسی طرح ہی لیتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی عذاب ہوگئی ہے، کیو ں کہ میری سسرال والے اتنے بدتمیز ہیں میں آ پ کو بتا نہیں سکتی۔ میرے تین بچے ہیں اسلام کی رو سے والدین کا فرض یہ ہے کہ اولاد ان کی خدمت کرے ان کے لیے دعائیں کرے ان کی صحت کا خیال رکھے یا اپنے والدین کے کہنے میں آکر بیوی اور بچوں کا خیال رکھنا یا ان کی کفالت بھی چھوڑ دے۔ ایک اچھا بیٹا بننے کے بعد ایک آدمی کے اوپر بیوی بچوں کی جو ذمہ داری اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس کو اچھی طرح پوری کرنا کتنا ضروری ہے؟ اپنی بیوی بچوں کی اچھی کفالت کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ اللہ نے ہم کو جو زندگی دی ہے اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جس میں ہم درگزر کرتے ہیں لیکن ہر بات میں خاموش رہنا اور اپنی کسی بھی بات کی صفائی نہ دینا کیا صحیح ہے چاہے کوئی ہمیں کتنا بھی عزت کرے یا نقصان پہنچائے؟ کیا یہ صحیح ہے؟ اللہ نے ہمیں زبان بھی دی ہے آنکھیں بھی او رعقل بھی تو ان کا استعمال نہ کرنا او ربلا وجہ خاموش رہنا یہ غلط ہے یا صحیح اور اپنے شوہر کی اس عادت کی وجہ سے میری زندگی ایک عذاب بن چکی ہے۔ برائے مہربانی جواب جلدی دیجئے گا۔

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو نو سال ہوگئے ہیں میرے شوہر بہت اچھے اور شریف ہیں۔میری شادی کے بعد میری سسرال والے مجھ سے بہت بدتمیزی کرتے ہیں اور میرے شوہر یہ دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ اللہ پر چھوڑ دو اور عفو و درگزر سے کام لو۔ اسلام کے لحاظ سے ایک مسلم شوہر کے سامنے اگر اس کے گھر والے اس کی بیوی کی بے عزتی کریں او راس پر تہمت لگا ئیں تو شوہر کا کیا فرض ہے آیا کہ بڑے لوگوں کے سامنے چپ ہوجائے یا بیوی کو اپنی عزت سمجھ کر سب کا مقابلہ کرے۔ میرے شوہر زندگی کے ہر معاملہ کو اسی طرح ہی لیتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی عذاب ہوگئی ہے، کیو ں کہ میری سسرال والے اتنے بدتمیز ہیں میں آ پ کو بتا نہیں سکتی۔ میرے تین بچے ہیں اسلام کی رو سے والدین کا فرض یہ ہے کہ اولاد ان کی خدمت کرے ان کے لیے دعائیں کرے ان کی صحت کا خیال رکھے یا اپنے والدین کے کہنے میں آکر بیوی اور بچوں کا خیال رکھنا یا ان کی کفالت بھی چھوڑ دے۔ ایک اچھا بیٹا بننے کے بعد ایک آدمی کے اوپر بیوی بچوں کی جو ذمہ داری اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس کو اچھی طرح پوری کرنا کتنا ضروری ہے؟ اپنی بیوی بچوں کی اچھی کفالت کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ اللہ نے ہم کو جو زندگی دی ہے اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جس میں ہم درگزر کرتے ہیں لیکن ہر بات میں خاموش رہنا اور اپنی کسی بھی بات کی صفائی نہ دینا کیا صحیح ہے چاہے کوئی ہمیں کتنا بھی عزت کرے یا نقصان پہنچائے؟ کیا یہ صحیح ہے؟ اللہ نے ہمیں زبان بھی دی ہے آنکھیں بھی او رعقل بھی تو ان کا استعمال نہ کرنا او ربلا وجہ خاموش رہنا یہ غلط ہے یا صحیح اور اپنے شوہر کی اس عادت کی وجہ سے میری زندگی ایک عذاب بن چکی ہے۔ برائے مہربانی جواب جلدی دیجئے گا۔

    جواب نمبر: 19370

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 235=197-2/1431

     

    قرآن پاک میں ارشاد ہے: [وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ] بیویوں کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو، رہن سہن میں اچھا برتاوٴ کرو، حدیث میں ارشاد ہے: [أکملکم إیمانا أحسنکم أخلاقاً لأہلہ وأنا أحسنکم أخلاقًا لأھلي] تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھے ہوں اور میں (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے گھروالوں کے ساتھ سب سے اچھے اخلاق برتنے والا ہوں۔ آپ کے شوہر کے لیے اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھنا، ان کی عزت نفس کا لحاظ کرنا ضروری ہے، جس طرح آپ پر شوہر کے حقوق کی ادائیگی کرنا ضروری ہے، ان کی خاطر کچھ پریشانی برداشت کرنے کی نوبت آئے اسے خندہ پیشانی سے کرلینا چاہیے، حسن معاشرت کا مطلب یہی ہے کہ اچھا برتاوٴ کرنا نیز ناگواری پیش آئے تو اسے برداشت کرلیناچاہیے۔ حسن معاشرت زوجین پر واجب ہے۔ زبان بند رکھنا زبان کھولنے سے بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند