• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 17775

    عنوان:

    ہم کو شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ ساس اور سسر کی خدمت بہو پر فرض ہے یا نہیں (یعنی میری بیوی پر میرے ماں اور باپ کی خدمت فرض ہے یا نہیں)؟(۲)اگر میری بیوی پر میرے ماں باپ کی طرف سے اکثر دباؤ رہتا ہو (وہ اکثر اس سے ناراض رہتی ہے اور اس کے لیے میرا فرض کیا ہے ) کیا میں بیوی کو الگ رکھوں جائز ہے، صحیح ہے؟برائے مہربانی میری پریشانی کا حل سنت اور شرع کی روشنی میں بتائیں۔

    سوال:

    ہم کو شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ ساس اور سسر کی خدمت بہو پر فرض ہے یا نہیں (یعنی میری بیوی پر میرے ماں اور باپ کی خدمت فرض ہے یا نہیں)؟(۲)اگر میری بیوی پر میرے ماں باپ کی طرف سے اکثر دباؤ رہتا ہو (وہ اکثر اس سے ناراض رہتی ہے اور اس کے لیے میرا فرض کیا ہے ) کیا میں بیوی کو الگ رکھوں جائز ہے، صحیح ہے؟برائے مہربانی میری پریشانی کا حل سنت اور شرع کی روشنی میں بتائیں۔

    جواب نمبر: 17775

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):1981=349tb-12/1430

     

    ساس اور سسر کی خدمت بہو پر فرض نہیں ہے۔ صرف اپنے شوہر کی خدمت اور ادائیگی حقوق اس کے ذمہ ہے۔

    (۲) ماں باپ کو اپنی خدمت لینے کے لیے لڑکے کی بیوی پر دباوٴ ڈالنا ناجائز ہے۔ اگر آپ کی بیوی ان کی خدمت نہیں کرنا چاہتی اور والدین کی طرف سے دباوٴ پڑتا ہے جس سے بیوی پر بوجھ پڑتا ہے اور وہ ناراض رہتی ہے تو آپ اپنی بیوی کو ماں باپ سے علاحدہ رکھیں اور ان کی خدمت کے لیے آپ کوئی اور انتظام کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند