• معاشرت >> اخلاق و آداب

    سوال نمبر: 12106

    عنوان:

    اگرایک مسلمان لڑکی رشتہ دار یا مسلم لڑکا رشتہ دار، گھر سے بھاگ کر کسی مسلم لڑکا یا لڑکی سے شادی کرلیتے ہیں تو (۱)ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ (۲)ان لوگوں سے رشتہ رکھنا چاہیے یا ختم کرلینا چاہیے؟ (۳)اگر دونوں طرف کے والدین میں سے ایک طرف کے والدین اس شادی سے راضی ہوں تو اس حالت میں کیا ہونا چاہیے؟وضاحت کردیں۔

    سوال:

    اگرایک مسلمان لڑکی رشتہ دار یا مسلم لڑکا رشتہ دار، گھر سے بھاگ کر کسی مسلم لڑکا یا لڑکی سے شادی کرلیتے ہیں تو (۱)ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ (۲)ان لوگوں سے رشتہ رکھنا چاہیے یا ختم کرلینا چاہیے؟ (۳)اگر دونوں طرف کے والدین میں سے ایک طرف کے والدین اس شادی سے راضی ہوں تو اس حالت میں کیا ہونا چاہیے؟وضاحت کردیں۔

    جواب نمبر: 12106

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 893=665/ھ

     

    (۱) رشتہ ختم کرلینے میں اصلاح کی کوئی امید نہیں، مفاسد وخرابیوں کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہوجاتا ہے، عامةً آج کل ماحول اسی طرح کا ہوگیا ہے، بہتر یہ ہے کہ مسلسل اس سلسلہ میں سعی بلیغ کی جائے، مقامی علمائے کرام اور بااثر ہمدردان قوم وملت مل جل کر ماحول ایسا بنائیں کہ اس قسم کے معاملات (بھاگ کر شادی کرنا وغیرہ) پیش نہ آئیں، اگر کہیں خدشہ محسوس ہو تو حکمت بصیرت نرمی شفقت کے ساتھ افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند