• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 8904

    عنوان:

    میں ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ہمارے گھر کے تمام مرد وں کی اچھی آمدنی ہے اور زکوة ادا کرنے والوں کی فہرست میں آتے ہیں (پابندی سے زکوةادا کرتے ہیں)۔ ہم دو بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ میں سرکاری نوکری کی وجہ سے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک دوسرے شہر میں رہتا ہوں۔ میرے والدین اور ہم دونوں بھائی الگ الگ زکوة ادا کرتے ہیں سونا اور چاندی کے اعتبار سے، جیسا کہ ہمارے یہاں مسلم سوسائٹی کا سسٹم یہ ہے کہ سونا اورچاندی ہمارے گھر کی عورتوں کی ملکیت میں ہوتا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا کیا مسئلہ ہے؟ کیاقربانی صرف ہمارے گھر کے مردوں پر واجب ہے یاگھر کے دونوں افراد (یعنی میاں اور بیوی)پر بھی واجب ہے؟ جیسا کہ ہمارے گھر میں تین مرد افراد ہیں(یعنی تین فیملیاں ہیں جو کہ مالی اعتبار سے آزاد ہیں)۔ اس صورت میں کیا تین قربانی واجب ہے یا چھ قربانی واجب ہے؟ برائے کرم اس کی وضاحت فرماویں۔

    سوال:

    میں ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ہمارے گھر کے تمام مرد وں کی اچھی آمدنی ہے اور زکوة ادا کرنے والوں کی فہرست میں آتے ہیں (پابندی سے زکوةادا کرتے ہیں)۔ ہم دو بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ میں سرکاری نوکری کی وجہ سے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک دوسرے شہر میں رہتا ہوں۔ میرے والدین اور ہم دونوں بھائی الگ الگ زکوة ادا کرتے ہیں سونا اور چاندی کے اعتبار سے، جیسا کہ ہمارے یہاں مسلم سوسائٹی کا سسٹم یہ ہے کہ سونا اورچاندی ہمارے گھر کی عورتوں کی ملکیت میں ہوتا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا کیا مسئلہ ہے؟ کیاقربانی صرف ہمارے گھر کے مردوں پر واجب ہے یاگھر کے دونوں افراد (یعنی میاں اور بیوی)پر بھی واجب ہے؟ جیسا کہ ہمارے گھر میں تین مرد افراد ہیں(یعنی تین فیملیاں ہیں جو کہ مالی اعتبار سے آزاد ہیں)۔ اس صورت میں کیا تین قربانی واجب ہے یا چھ قربانی واجب ہے؟ برائے کرم اس کی وضاحت فرماویں۔

    جواب نمبر: 890431-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2306=1799/ھ

     

    گھر میں جتنے مرد وعورتیں بالغ، ایام اضحیہ میں صاحب نصاب ہوں سب پر الگ الگ قربانی اپنی اپنی واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند