• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 69024

    عنوان: اگر کسی کے پاس صرف چار تولہ سونا ہے تو کیا اس پر قربانی واجب ہے؟

    سوال: (۱) اگر کسی کے پاس صرف چار تولہ سونا ہے تو کیا اس پر قربانی واجب ہے؟ (۲) اگر کسی کے پاس چار تولہ سونا ہے اور دوہزار نقد اسے عید کے دن ہدیہ ملا ہے تو پھر کیا اس پر قربانی واجب ہے؟

    جواب نمبر: 6902401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 832-832/B=11/1437 (۱) اگر کسی کے پاس صرف چار تولہ سونا ہے چاندی نہیں ہے نہ ہی نقد روپئے ہیں اور نہ ہی تجارتی مال ہے اور زائد از ضرورت اثاثہ ہے تو اس کے اوپر قربانی واجب نہیں، اور اگر ۴/ تولہ سونا کے ساتھ اس کے پاس دس بیس روپئے نقد بھی ہیں تو سونے کی قیمت اور نقد دونوں کا مجموعہ اگر نصابِ چاندی کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے اوپر قربانی واجب ہے۔ (۲) اگر کسی کے پاس نقدی بھی دوہزار ہے اور چار تولہ سونا بھی ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند