• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 605995

    عنوان:

    اپنی قربانی کا گوشت کھانے کے لئے کب تک انتظا کرے ؟

    سوال:

    قربانی کے دین آگر کیسی شخص نے اپنے مذبوحہ جانور کی گوشت سے افتار کرے سورج زائل ہونے بعد تو اسکا حکم کیا ہوگا اور جاننے کا بات یہ ہے کہ قربانی کے جانور ذبح کرنے کی کتنی وقت کے بعد افتار کرنا شرعاً حکم دیا گیا حوالہ سمیت بتانے گا انشاء اللہ...؟ ہمارے ایک عالم کہا تھا کہ سورج زائل ہونے کے بعد اگر قربانی کرنے جانور سے افتار کرے تو وہ کبیرہ گناہ ہونے کا قریب ہے یہ بات کتنی صحیح ہے...؟

    جواب نمبر: 605995

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:29-29Tsn=2/1443

     عید الاضحی کے دن کھانے پینے کوزوال (سورج ڈھلنے )کے بعد تک مؤخر کرنا گناہ ہو، ایسی کوئی بات ہمیں تلاش کے باوجود نہیں ملی، احادیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ عید الاضحی کے دن نماز سے پہلے کچھ نہیں تناول فرماتے ؛ بلکہ نماز کے بعد قربانی کا جانور ذبح ہونے کے بعداس کا گوشت تناول فرماتے ، اسی طرح کی روایات کی روشنی میں حضرات فقہا نے یہ بیان کیا ہے کہ عید الاضحی کے دن قربانی کے گوشت سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے ، اگر قربانی ذرا تاخیر سے ہو(مثلا: زوال کے بعد یا عصر سے پہلے یا عصر کے بعد)تو کیا تب بھی کھانا مؤخر کرنا مستحب رہے گا؟ اس سلسلے میں کوئی صراحت نہیں ملی، احادیث کا ظاہر یہ ہے کہ بہ آسانی جس قدر تاخیر کرسکے کرلے اور جب بھوک محسوس ہو تو کھانا کھالے ، شرعا اس میں کچھ حرج نہیں ہے ۔

    وعن بریدة - رضی اللہ عنہ - قال: کان النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - لا یخرج یوم الفطر حتی یطعم، ولا یطعم یوم الأضحی حتی یصلی . رواہ الترمذی، وابن ماجہ، والدارمی.[مشکاة المصابیح، رقم:1440]

    ( ولا یطعم یوم الأضحی حتی یصلی ) : موافقة للفقراء ; لأن الظاہر أن لا شیء لہم إلا ما أطعمہم الناس من لحوم الأضاحی، وہو متأخر عن الصلاة بخلاف صدقة الفطر، فإنہا متقدمة علی الصلاة. وقیل: لیکون أول ما یطعم من أضحیتہ ; فیکون أکلہ مبنیا علی امتثال الأمر، سواء قیل بوجوبہ أو سنیتہ. (رواہ الترمذی، وابن ماجہ، والدارمی) :. قال ابن الہمام: ورواہ ابن حبان فی صحیحہ، والحاکم فی المستدرک. وصحح إسنادہ عن عبد اللہ بن بریدة، عن بریدة، وزاد الدارقطنی، وأحمد: فیأکل من أضحیتہ، وصححہ ابن القطان فی کتابہ، وصحح زیادة الدارقطنی أیضا.[مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 3/ 1070، باب صلاة العیدین، مطبوعة: بیروت)

    فی الأضحی یؤخر الأکل عن الصلاة" استحبابا فإن قدمہ لا یکرہ فی المختار لأنہ علیہ الصلاة والسلام کان لا یطعم یوم الأضحی حتی یرجع فیأکل من أضحیتہ؛ فلذلک قیل لا یستحب تأخیر الأکل إلا لمن یضحی لیأکل منہا أولا (مراقی الفلاح)قولہ: "یؤخر الأکل عن الصلاة" وکذا کل ما ینافی الصوم من صبحہ إلی أن یصلی، وقد تواردت الأخبار عن الصحابة رضی اللہ عنہم فی منع الصبیان عن الأکل والأطفال عن الرضاع غداة الأضحی کما فی الزاہدی وفیہ رمز إلی أن ہذا الإمساک لیس بصوم؛ ولذا لم یشترط لہ النیة، وإلی أنہ مندوب فی حق المصریین فقط کما فی تقسیم المأمور بہ من الکشف قہستانی، قولہ: "فإن قدمہ لا یکرہ فی المختار" قال الحموی المنفی کراہة التحریم إذ لا بد من الکراہة بترک السنة وأدنی مراتبہا التنزیہ اہ قولہ: "کان لا یطعم" بفتح الیاء أی لا یأکل قولہ: "فیأکل من أضحیتہ" وفی لفظ البیہقی فیأکل من کبد أضحیتہ قال فی غایة البیان لأن الناس أضیاف اللہ تعالی فی ہذا الیوم فیستحب أن یکون تناولہم من لحوم الأضاحی التی ہی ضیافة اللہ تعالی قولہ: "فلذا قیل الخ" أی لہذا الحدیث قیل الخ قال السید وہو ظاہر فی ترجیح الإطلاق لحکایتہ التفصیل بقیل اہ وقیدہ فی غایة البیان بالمصری(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح، ص: 536، باب أحکام العیدین، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)

    نوٹ: واضح رہے کہ دونوں عیدین کے روز روزہ رکھنا حرام اور سخت گناہ ہے ؛ لیکن روزہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے کہ آدمی باقاعدہ روزے کی نیت کے ساتھ کھانا پینا ترک کئے رہے اور جب سورج غروب ہو تب افطار کرے ، ایسا کرنا بلا شبہ بڑا گناہ ہے ۔ مذکور فی السوال عالم کا مقصد اگر یہی تھا تب تو ان کی بات درست ہے ورنہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند