• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 605525

    عنوان:

    زبان کٹے ہوئے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ جس جانور کی زبان کٹی ہو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟ کٹنی زبان کٹی ہو تو قربانی سے مانع ہے ؟ کیا اس میں جانوروں کے اعتبار سے بھی کوئی تفصیل ہے ۔رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 605525

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:867-708/N=12/1442

     اگر بکرا، بکری، بھیڑ یا دنبہ کی پوری، آدھی یا کم وبیش زبان کٹ گئی تو اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ یہ جانور دانتوں سے چارہ لیتے ہیں اور اگر گائے، بیل یا بھینس کی پوری، ایک تہائی یا اس سے زیادہ زبان کٹ گئی تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر تہائی سے کم کٹی ہے تو اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ یہ جانور زبان سے چارہ لیتے ہیں(خلاصة الفتاوی، ۴: ۳۲۰، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، فتاوی عالمگیری، ۵: ۲۹۸، مطبوعہ: مصر، رد المحتار، ۹: ۴۷۰، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند، وغیرہ)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند