• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 49234

    عنوان: اگر چچا پر قرض اتنا ہے کہ اس کو وضع کرنے کے بعد ان کے پاس ایام قربانی میں اتنی مالیت نہیں تھی جتنی مالیت سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو ان پر قربانی نہیں

    سوال: ایک مسئلہ کی وضاحت کرنی تھی ، میرے چچا اس سال قربانی نہیں کررہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ کسی مفتی صاحب سے یہ مسئلہ پوچھ کے بتا نا کہ ہمارے پاس تین تولہ سونا ہے ، مگر ہم جس مکان میں رہ رہے ہیں وہ کرائے کا ہے اوراس کے علاوہ قرضہ بھی ہے اور تنخواہ کا بھی مسئلہ ہے تو کیا اس صورت میں ہم پر قربانی ہوتی ہے یا نہیں؟ صرف تین تولہ سونا ہے اور گھریلو سامان ؟ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 4923431-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 26-26/M=1/1435-U صورت مسئولہ میں اگر چچا پر قرض اتنا ہے کہ اس کو وضع کرنے کے بعد ان کے پاس ایام قربانی میں اتنی مالیت نہیں تھی جتنی مالیت سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے یعنی حوائج اصلیہ اور قرض کو چھوڑکر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مالیت نہیں تو ان پر قربانی واجب نہیں، گھر کے وہ سامان جو استعمال میں ہیں وہ حوائج اصلیہ میں داخل ہیں، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند