• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 42682

    عنوان: قربانی کے مسائل

    سوال: ۱- ایک بالغ آدمی کے پاس نہ سونا ہے نہ چاندی ہے اور نہ ہی اس کے پاس نقدی مال اور نہ ہی تجارت کا سامان ہے . لیکن اس کی ملکیت میں ایک ایسا ٹیلی ویژن یا ایک ایسا کمپیوٹر یا ایک ایسا ٹیپ ریکارڈر یا ایک ایسا موبائل کہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز کسی کی ملکیت میں داخل ہو اور وہ ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پونچ جاتی ہے تو کیا اس آدمی پر قربانی واجب ہے ؟ جب کے اس پہ کوئی قرضہ بھی نہیں ہے؟

    جواب نمبر: 4268201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1336-1333/N=1/1434 اگر کمپیوٹر، ٹیپ ریکارڈر یا موبائل وغیرہ اس کے استعمال میں ہے تو اس پر قربانی واجب نہ ہوگی قال في ملتقی الأبحر (مع المجمع والدر المنتقی کتاب الزکاة باب صدقة الفطر: ۱/۳۳۴، ط: دار الکتب العلمیة بیروت لبنان): ہي واجبة علی الحر المسلم المالک لنصاب فاضل عن حوائجہ الأصلیة وإن لم یکن نامیا وبہ تحرم الصدقة وتجب الأضحیة․․․ إھ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند