• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 35817

    عنوان: عقیقہ سے متعلق مختصراً مسائل یہ ہیں

    سوال: (۱) میرا بیٹا ہے جو کہ ایک سال کا ہونے والا ہے، میں اس کا عقیقہ کرنا چاہتاہوں۔ میں نے اس کے بال پہلے کٹوادئیے تھے اورچاندی بھی تقسیم کردی تھی۔ کیا اب عقیقہ کرتے وقت بھی بال اتر وانا ضروری ہے اور چاندی تقسیم کرنا بھی ؟ (۲) عقیقہ میں دو بکریوں کو حلال کرنا ہے یا بکروں کو حلال کیاجاسکتاہے؟اس کے علاوہ اگر کوئی شرط یا بات عقیقہ سے متعلق ہوتو بیان کریں۔

    جواب نمبر: 35817

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 64=80-1/1433 (۱) عقیقہ کرنا، بال کٹوانا، اور چاندی تقسیم کرنا سب امورِ مستحبات میں سے ہیں، جب آپ نے پہلے ہی بال کٹواکر اس کے برابر چاندی صدقہ کردی تو اب آپ صرف عقیقہ کرلیں، بال کٹوانے اور اس کے برابر چاندی صدقہ کرنے کی دوبارہ ضرورت نہیں، ولادت سے سات دن گذرنے کے بعد عقیقہ کے ساتھ بال کٹوانا ثابت نہیں، یُستحب لمن وُلد لہ وَلد أن یسمّیہ یومَ أسبوعہ ویحلق رأسہ إلخ․ رد المحتار: ۹/۴۰۷․ (۲) لڑکے کے عقیقے میں دو ارو لڑکی کے عقیقے میں ایک بکرا یا بکری ذبح کرنا مستحب ہے، لیکن اگر دونوں کے عقیقے میں ایک ایک بکرا یا بکری ذبح کی تو یہ بہی جائز ہے۔ (۳) عقیقہ سے متعلق مختصراً مسائل یہ ہیں: (۱) عقیقہ ولادت سے ساتویں روز کرنا مستحب ہے، اگر اس وقت نہ ہو تو پھر چودہویں دن اور پھر اکیسویں دن، ورنہ جب چاہے کرے۔ (۲) جو جانور قربانی میں ذبح ہوسکتا ہے وہ عقیقہ میں بھی ذبح ہوسکتا ہے۔ (۳) قربانی کی گائے میں عقیقہ کا حصہ لینا درست ہے وغیرہ وغیرہ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند