• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 27900

    عنوان: میں قربانی کے بارے میں سوال کرنا چاہتاہوں۔ کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی نہیں ہے اور اس کے بینک میں پیسہ بھی نہیں ہے لیکن وہ ماہانہ تیس ہزار سے چالیس ہزار تک کما رہا ہے اور کبھی پچاس ہزار۔ اوراس کی بیوی کے پاس سونا ہے لیکن یہ نصاب کو نہیں پہنچ رہا ہے بلکہ نصاب سے کچھ کم ہے۔کیاصرف عورت یا مرد کو یا دونوں کو قربانی کرنی ہوگی یا ان دونوں پر قربانی ضروری نہیں ہے؟

    سوال: میں قربانی کے بارے میں سوال کرنا چاہتاہوں۔ کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی نہیں ہے اور اس کے بینک میں پیسہ بھی نہیں ہے لیکن وہ ماہانہ تیس ہزار سے چالیس ہزار تک کما رہا ہے اور کبھی پچاس ہزار۔ اوراس کی بیوی کے پاس سونا ہے لیکن یہ نصاب کو نہیں پہنچ رہا ہے بلکہ نصاب سے کچھ کم ہے۔کیاصرف عورت یا مرد کو یا دونوں کو قربانی کرنی ہوگی یا ان دونوں پر قربانی ضروری نہیں ہے؟

    جواب نمبر: 27900

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1931=421-12/1431

     

    اگر بقرعید کے دن آپ کے پاس نقد روپئے ۶۱۳/ گرام چاندی کی قیمت کے بقدر موجود رہیں جو آپ کی فوری ضروریات (کھانے پینے) سے فارغ ہو تو آپ پر قربانی واجب ہے یا نقد روپئے اتنے نہ ہوں مگر گھر کے غیرضروری سامان اور زائد از ضرورت مکان وزمین سب کی قیمت اور نقد روپئے ملاکر ۶۱۳گرام چاندی کی قیمت کے برابرہوجاتے ہیں تو بھی آپ پر قربانی واجب ہوگی۔

    (۲) بیوی کے پاس اگر سونے کے علاوہ نقد روپئے بھی ہوں اور سونے کی قیمت اور نقد روپئے اور زا ئد ضرورت سامان کی قیمت سب ملاکر ۶۱۳ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجاتے ہوں تو ان پر اپنی قربانی علیحدہ کرنا واجب ہوگا۔

    نوٹ: بہشتی زیور حصہ دوم میں صدقہ فطر کا جو نصاب لکھا ہے، وہی قربانی کا بھی نصاب ہے اسے اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لیں اور عمل کریں، خلاصہ وہی ہے جو ہم نے اوپر تحریر کیا۔(د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند