• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 179793

    عنوان:

    دس لوگوں کی طرف سے کیا اونٹ کافی ہے ؟

    سوال:

    اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہیں؟ سنن ابن ماجہ کتاب الأضاحی | باب : عن کم تجزء البدنة والبقرة 3131 حَدَّثَنَا ہَدِیَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِکْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ، فَحَضَرَ الْأَضْحَی، فَاشْتَرَکْنَا فِی الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ. حکم الحدیث: صحیح سنن الترمذی ( 905, 1501 )، سنن النسائی ( 4392 )، سنن ابن ماجہ ( 3134 )، مسند أحمد ( 2484 ). مذکورہ حدیث کا حوالہ دیکر کہتا ہے کہ: اونٹ کی قربانی میں دس حصے ہیں یہ بات کہاں صحیح ہے ؟ اور اگر نہیں تو مذکورہ حدیث کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ جو بھی جواب ہو مدلل عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 17979314-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:11-5TSN/=1/1442

     گائے اور اونٹ دونوں سات لوگوں کی طرف سے کافی ہیں، دس لوگوں کی طرف سے جس طرح گائے کی قربانی کافی نہیں ہے ، اسی طرح اونٹ کی قربانی بھی کافی نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں واضح احادیث موجود ہیں جو مسلم شریف وغیرہ میں مروی ہیں، رہی سوال میں مذکور روایت تو اس کے بارے عرض ہے کہ اس کی سند میں اضطراب ہے ، نیز یہ صحابہ کرام کا عمل ہے اور اس بات پرکوئی واضح قرینہ نہیں ہے کہ یہ عمل اللہ کے رسول ﷺ کی اجازت سے انجام دیا گیا تھا یا پھر بعد میں آپ کو اطلاع دی گئی ہو اور آپ ﷺ نے اس کو بر قرار رکھا ہو؛ لہذا دیگر صحیح ترین مرفوع احادیث کے مقابلے میں یہ روایت حجت نہ ہوگی۔ نیز ملاعلی قاری نے مرقاة میں اسے منسوخ قرار دیا ہے ۔

    وعن جابر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة . رواہ مسلم وأبو داود واللفظ لہ.

    وعن جابر - رضی اللہ عنہ -: أن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - قال: البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة . رواہ مسلم. وأبو داود، واللفظ لہ. وفی المرقاة:

    ....وعن جابر: أن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - قال: البقرة عن سبعة أی: أن تجزء عن سبعة أشخاص․ (والجزور) : بفتح الجیم، وہو ما یجزر أی: ینحر من الإبل خاصة، ذکرا کان أو أنثی، وسمیت بہا لأن الجزار یأخذہا فہی جزارة، کما یقال: أخذ العامل عمالتہ․ (عن سبعة) أی: تجزء عن سبعة أنفس، أو یضحی عن سبعة أشخاص، قال الشافعی: والأکثرون تجوز الأضحیة بالإبل والبقر عن سبعة، ولا تجوز عن أکثر لمفہوم ہذا الحدیث. وقال إسحاق بن راہویہ: تجوز الإبل عن عشرة لحدیث ابن عباس فی الفصل الثانی، وسیأتی فی الحاوی. ہو موقوف ولیس بمسند، ومتروک ولیس بمعول، کذا فی الأزہار․ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 3/ 1080،مشکاة مع المرقاة، باب فی الأضحیة، رقم 1478):

    وعن ابن عباس قال: کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فحضر الأضحی فاشترکنا فی البقرة سبعة وفی البعیر عشرة. رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ وقال الترمذی: ہذا حدیث حسن غریب.

    وعن ابن عباس - رضی اللہ عنہما - قال: کنا مع رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - فی سفر، فحضر الأضحی، فاشترکنا فی البقرة سبعة، وفی البعیر عشرة . رواہ الترمذی، والنسائی، وابن ماجہ، وقال الترمذی: ہذا حدیث حسن غریب.

    وفی المرقاة

    (وعن ابن عباس: قال: کنا مع رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - فی سفر) : ولعلہم أقاموا فی بلد، أو وقعت الأضحیة استحبابا لا وجوبا․ (فحضر الأضحی) أی: یوم عیدہ․ (فاشترکنا فی البقرة سبعة) أی: سبعة أشخاص، بالنصب علی تقدیر أعنی بیانا بضمیر الجمع قالہ الطیبی، وقیل: نصب علی الحال، وقیل: مرفوع: بدلا من ضمیر اشترکنا، وعندی أنہ مرفوع علی الابتداء، وقدم خبرہ: الجار، والجملة بیان للاشتراک․ (وفی البعیر عشرة) قال المظہر: عمل بہ إسحاق بن راہویہ، وقال غیرہ: إنہ منسوخ مما مر من قولہ: البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة اہ. قال الأظہر أن یقال: إنہ معارض بالروایة الصحیحة، وأما ما ورد: فی البدنة سبعة أو عشرة فہو شاک، وغیرہ جازم بالسبعة․ (رواہ الترمذی، والنسائی، وابن ماجہ، وقال الترمذی: ہذا حدیث حسن غریب) ․ (المصدر السابق، رقم: 1469،باب فی الأضحیة) مزید تفصیل کے لیے اعلاء السنن ( 17/ 203)سے کتاب الأضحیة کا پہلا باب دیکھیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند