• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 63877

    عنوان: واٹس اپ بھی موجودہ وقت میں پیغام رسانی کا ایک ذریعہ اس كے بارے میں كیا رائے ہے؟

    سوال: ایک عورت جس کے پہلے شوہر کی بیٹی اور دوسرے شوہر کا بیٹا یہاں ماں ایک ہے اور باپ الگ الگ ہیں ، دونوں شرعی اعتبار سے بھائی بہن ہیں ، لیکن وہ بھائی اپنی بہن کی بیٹی کو بھگا کر لے کے چلاگیا ہے، اب گاؤں والے دونوں کا نکاح کر وانا چاہتے ہیں ، کچھ علماء اس کو جائز کہتے ہیں، کیوں کہ نطفہ الگ الگ ہے، کچھ کہتے ہیں کہ دونوں کی ماں ایک ہونے کی وجہ سے سگے بھائی بہن ہوئے ، اس لیے ماموں کے ساتھ بھانجی کا نکاح درست نہیں ہے۔ براہ کرم، مسئلہ کا شرعی حل بتائیں ۔ (۲) واٹس اپ جو آج کل بہت بڑا فتنہ اور بیماری بنی ہوئی ہے جس میں ویڈیو شیئر کیا جاتاہے اس سے کوئی عالم یا دیندار بھی بچ نہیں سکا (الا ماشاء اللہ) اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

    جواب نمبر: 63877

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 400-306/D=5/1437 ایک ماں کے الگ الگ دو شوہروں سے پیدا ہونے والے دو بچے ماں شریک (اخیافی) بھائی بہن کہلاتے ہیں اور ان میں ہرایک کا بچہ دوسرے کے لیے ماں شریک بھانجہ بھتیجہ ہوگا جس طرح عینی بھانجی سے نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح اخیافی بھانجی سے بھی نکاح کرنا حرام ہے، لہٰذا گاوٴں والوں کا نکاح کروانے کی بات سوچنا قطعی حرام ہے، دونوں کے درمیان علیحدگی کرادیں اور ملنے جلنے سامنے آنے کے مواقع پر بندش لگادیں ورنہ سب گنہ کار ہوں گے جو شرعی حکم تھا ہم نے اوپر لکھ دیا اس کے برخلاف اپنی طرف سے رائے زنی کرنا اور من مانی باتیں کہنا سب غلط ہے۔ (۲) واٹس اپ بھی موجودہ وقت میں پیغام رسانی کا ایک جائز طور پر جائز کام کے لیے استعمال کرنے گنجائش ہوگی، اس کے علاوہ فضولیات ، لغویات یا فواحش و منکر ہے کے لیے اس کے استعمال کے گناہ اور ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند