• عبادات >> دیگر

    سوال نمبر: 63627

    عنوان: کھیل کی تھکن کی وجہ سے دو مرتبہ روزہ افطار کرلیا تھا تو اب ان کی قضا ہوگی یا کفارہ ؟

    سوال: (۱) پندرہ یا سولہ سال کی عمر میں اسکول میں کھیل کی تھکن کی وجہ سے دو مرتبہ روزہ افطار کرلیا تھا تو اب ان کی قضا ہوگی یا کفارہ ؟ (۲) دو بار رمضان میں غلط دیکھنے سے مشت زنی ہوگیا ، ایک بار قصداً اور ایک بار انجانے میں تو دوروزوں کی قضا ہوگی یا کفارہ دینا ہوگا؟

    جواب نمبر: 63627

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 382-382/Sd=6/1437 (۱) اگر کھیل کی تھکن صرف اس درجہ تھی کہ روزہ رکھنے کی صورت میں غالب گمان یہ تھا کہ کوئی بیماری لاحق نہیں ہوگی، اس کے باوجود محض تھکاوٹ کی وجہہ سے جان بوجھ کر آپ نے روزہ توڑ دیا تھا، تو صورت مسئولہ میں دو روزے کی قضا اور ایک کفارہ واجب ہوگا ۔ قال الحصکفي:وان ۔۔۔أکل أو شرب غذاء ۔۔۔۔۔عمداً، قضی وکفر۔ ۔۔۔۔۔ولو تکرر فطرہ، ولم یکفر للأول، یکفیہ واحدة ولو في رمضانین عند محمد وعلیہ الاعتماد۔۔۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۴۰۹۔۔۔۴۱۳، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، ط: دار الفکر، بیروت ) وقال الحصکفي: فصل في العوارض المبیحة لعدم الصوم۔۔۔۔۔۔ قال: وصحیح خاف المرض۔۔۔۔بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو باخبار طبیب حاذق مسلم۔۔۔۔۔۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۴۲۲، کتاب الصوم، فصل في العوارض المبیحة لعدم الصوم، ط: دار الفکر، بیروت ) (۲) اس صورت میں اگر انزال ہوگیا تھا، تو دو روزوں کی قضاء واجب ہوگی۔قال الحصکفي:وکذا الاستمناء بالکف۔۔۔۔قال ابن عابدین: قولہ: ( وکذا الاستمناء بالکف ) أي في کونہ لا یفسد، لکن ہذا اذا لم ینزل، أما اذا أنزل، فعلیہ القضاء۔۔۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۹۹، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، ط: دار الفکر، بیروت )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند