• معاشرت >> دیگر

    سوال نمبر: 63595

    عنوان: رجوع كرنے سے پہلے وضع حمل ہوجائے تو طلاق كا كیا حكم ہے؟

    سوال: محترم مفتی صاحب سے ایک مسئلہ معلوم کرناتھاکہ میں نے اپنی بیوی کوحمل کے پانچویں (5) مہینے ، (14 ستمبر 2015)کو محض ایک طلاق بذریعہ ایس ایم ایس دی تھی ، جس کے بعد ہم نے رجوع نہیں کیا۔ اب وہ حمل سے فارغ ہوچکی ہے ۔ اب ایک دی گئی طلاق کی کیا حیثیت ہے ؟ کیا اب رجوع ہوسکتاہے ؟ اگرہوسکتاہے توکیاطریقہ ہوگا؟جزاک اللہ

    جواب نمبر: 63595

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 219-219/Sd=5/1437 اگر آپ کو اقرار ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں ایک طلاق دی تھی، پھر طلاق دینے کے بعد آپ کے رجوع کرنے سے پہلے مطلقہ بیوی حمل سے فارغ ہوگئی،تو اُس کی عدت پوری ہوگئی اور وہ مطلقہ بائنہ ہوگی، اب آپ کے لیے رجوع کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ آپ مطلقہ بیوی کے ساتھ دوبارہ نکاح کریں؛ البتہ دوبارہ نکاح کے لیے حلالہ شرعی کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ دوبارہ نکاح کرنے کے بعد آپ کے لیے صرف دو طلاق کا اختیار باقی رہ جائے گا، آیندہ دوہی طلاق سے بیوی مغلظہ بائنہ ہوجائے گی۔ قال المرغیناني: اذا کان الطلاق بائناً دون الثلاث، فلہ أن یتزوجہا في العدة بعد انقضائہا۔( الہدایة: ۲/۳۹۹ِ باب الرجعة، فصل فیما تحل بہ المطلقة، ط: رشیدیة، دیوبند )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند