• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 63589

    عنوان: سنوکرکلب كھولنا اور اس كی کمائی کھانا کیسا ہے

    سوال: کیافرماتے ہیں علمائکرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں۔ ایک صاحب کا سنوکرکلب ہے اور اس سنوکر میں مالک کی طرف سے کسی بھی قسم کا جوا (قمار) یاکوئی بھی غیرشرعی فعل پر سخت پابندی ہے ۔ (1) جبکہ ہوتا یہ ہے کہ جو گیمر کھیلنے والے ہوتے ہیں ان کا آپس میں یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ جو گیم ہارے گا وہ فیس ادا کرے گا۔ (2) اگرچہ مالک کی طرف سے سخت پابندی ہے لیکن کوئی بھی کھیلنے والے افراد آپس میں جوا لگاتے ہیں اور مالک لاعلم ہے اور جوا لگاکر کھیلنے والے اسکو ٹیبل کی فیس ادا کرتے ہیں فقط۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ جس طرز پر ان صاحب نے یہ سنوکر کلب کھول رکھا ہے انکو جو ٹیبل استعمال کرنے والے معاوضہ/فیس ادا کرتے ہیں شرعی حوالے سے یہ کمائی کیسی ہے جائز یاناجائز؟ فتاوی کے حوالے سے براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرماکرشرعی حوالے سے آگاہ فرمائیں ۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 63589

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 228-228/Sd=5/1437 (۱۔۲) ” سنوکر کلب “ میں کھیلنے والوں کا آپس میں یہ معاملہ کرنا کہ جو گیم ہارے گا، وہی کلب کی فیس جمع کرے گا؛ ناجائز ہے ․ البتہ ٹیبل استعمال کرنے والے جو فیس اداء کرتے ہیں مالک کے لیے اُس کا لینا حرام نہیں ہے؛ ہاں اس طرح کمانے سے احتیاط بہتر ہے اور اگر مالک کو پہلے سے علم ہو کہ اُس کے کلب میں لوگ جوا کھیلیں گے ، تو مالک کا ایسے لوگوں کو کلب کرایے پر دینا مکروہ تحریمی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند