• معاشرت >> دیگر

    سوال نمبر: 63393

    عنوان: كیا ساس سسر اور دیگر لوگوں كی خدمت كرنا بہو كی ذمہ داری ہے؟

    سوال: (۱) کئی مولاناؤں نے اپنے بیان میں یہ کہا ہے کہ بہو کی ذمہ داری نہیں ہے اپنی ساس کی خدمت کرنا ، یہ اس کے بیٹے کی ذمہ داری ہے۔ اگر بیٹے پہ ماں کی خدمت کا حق ہے تو کیا یہ جائزہوگا کہ وہ اپنی ماں کو جو بیمار اور لاچار ہیں اس کو غسل دے ؟ پیشاب اور دوسری ضروریات پر اس کی شرمگاہ صاف کرے ؟کیا ان سب سے اس ماں کے دل کو تکلیف نہیں ہوگی جو اولاد اس نے پیدا کی آج اسی کا سامانا اور اس کی عزت کا جنازہ نکل رہا ہے ؟کیا مولاناؤں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات کہیہے؟ اگر ہاں تو براہ کرم، قرآن اورحدیث کے حوالے دیں۔ (۲) بہو کی کیا ذمہ داری ساس پر ؟براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں۔

    جواب نمبر: 63393

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 377-418/N=5/1437 (۱، ۳): از روئے شرع عورت پر ساس سسر (شوہر کے ماں باپ) کی خدمت واجب نہیں، اگر وہ نہ کرے تو شوہر یا ساس سسر اسے مجبور نہیں کرسکتے، البتہ چوں کہ ساس سسر شوہر کے وجہ سے قابل احترام مثل ماں باپ کے ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر کوئی بہو اپنے ساس سسر کی خدمت کرے تو یہ بہتر، اخلاق ومروت اور سعادت مندی کی بات ہے اور یہ گویا شوہر ہی کی خدمت کا حصہ ہے، اور جب وہ ساس بنے گی تو اس کی بہو بھی اس کی خدمت کرے گی انشاء اللہ تعالی، البتہ عورت پر اس کے شوہر کی خدمت دیانتاً واجب ہے اگرچہ قضاء یہ بھی واجب نہیں، اور سسر کی خدمت میں احتیاط چاہئے، بالخصوص سسر کی جسمانی خدمت نہ کرے؛ کیوں کہ سسر کی جسمانی خدمت میں شوہر سے اس کا رشتہ خراب ہوجانے کا اندیشہ ہے؛ بلکہ باپ کی جسمانی خدمت بیٹے (شوہر) کو کرنی چاہئے۔ اور اگر کسی کی ماں محتاج خدمت ہو اور بیوی خدمت کے لیے تیار نہ ہو اور خدمت بشری ضروریات کے حوالے سے ہو تو ماں یا اس کے بیٹے کو چاہئے کہ وہ کسی خادمہ کا انتظام کرے اگر چہ اجرت پر ہو، بیوی اگر خدمت نہ کرنا چاہے تو اسے ساس کی خدمت پر مجبور کرنا جائز نہ ہوگا۔ اور ساس پر بہو کی کوئی ذمہ داری نہیں، اس کی جو کچھ ذمہ داری ہے وہ شوہر پر ہے، اور اگر کوئی ساس بہو کو بیٹی کی طرح رکھ کر اس کے ساتھ محبت وشفقت کا معاملہ کرتی ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے تو یہ اخلاق ومروت اور ہم دردی کی بات ہے اور اگر کوئی ساس ایسی ہو تو عام طور پر بہوئیں بھی ایسی ساس کو ماں کا مقام ومرتبہ دیتی ہیں اور اس کی ہر طرح کی خدمت کی کوشش کرتی ہیں، ولیس علیھا أن تعمل بیدھا شیئاً لزوجھا قضاء من الخبز والطبخ وکنس البیت وغیر ذلک (فتاوی خانیہ بر ہامش ہندیہ قدیم ۱: ۴۴۳، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند) ، فإن کان للرجل والدة أو أخت أو ولد من غیرھا في منزلھا فقالت: صیرني في منزل علیحدة کان لھا ذلک (فتاوی خانیہ بر ہامش ہندیہ ۱: ۴۲۸) ، واجبات الإسلام سبعة: الفطرة ……وخدمة أبویہ والمرأة لزوجھا (در مختار مع شامی ۳: ۳۲۷، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند) ، ومرادہ بالواجب ما یعم الواجب دیانة کخدمة المرأة لزوجھا الخ (شامی) ، نیز فتاوی دار العلوم دیوبند (۱۶: ۵۲۶، ۵۲۷، سوال: ۱۰۴۱، ۲۰۴۲، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند) ، فتاوی محمودیہ جدید (۱۸: ۲۱۵، ۲۱۶، سوال: ۹۰۷۱، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل) ، کفایت المفتی جدید (۵: ۲۳۰، مطبوعہ: مکتبہ دار الاشاعت کراچی) ، اور آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید تخریج شدہ (۶: ۳۴۲، ۳۴۳، مطبوعہ: کتب خانہ نعیمیہ دیوبند) دیکھیں۔ (۲): جی ہاں! یہ بات شریعت کی روشنی میں کہی گئی ہے، آپ اعتماد کریں، انہوں نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی ہے، اور اگر آپ اس کا ماخذ سمجھنا چاہتے ہیں تواس سلسلہ میں مختلف عربی کتابوں میں نفقہ وغیرہ کے باب کا مطالعہ کریں، اوپر بعض ضروری حوالجات ذکر کردئے گئے ہیں، اگر آپ عربی زبان سے واقف اور قرآن وحدیث کے علوم سے واقف ہیں تو اس مسئلہ کے جملہ مآخذ تک بآسانی پہنچ جائیں گے۔ اور اگر آپ کو قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث سے اشکال ہو تو اسے تحریر کرکے سوال کرسکتے ہیں، انشاء اللہ آپ کا اشکال دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند