• معاشرت >> دیگر

    سوال نمبر: 63356

    عنوان: نكاح كی صحیح عمر كیا ہے؟

    سوال: میری عمر تقریباً ۵۳ سال ہے - میرے والد صاحب کا کہنا ہے کہ انکے ایک دوست کی شادی ۵۴ سال کی عمر مے ہویی تھی اسلئے جب تک میری چھوٹی بہن کی شادی نہیں ہو جاتی تب تک میری نہیں ہو سکتی جبکے میری چھوٹی بہن انجنیئر لڑکے کے انتظار میں بیٹھی ہے - نہ میں معاشی اعتبار سے کامیاب ہو پا رہا ہوں اورنہ میری شادی کی کوئی شکل دکھایی دے رہی ہے کوشش کرنے پر کام بگڑ جاتا ہے - میرے والدین اور گھر والوں کا رویہ بھی میرے ساتھ دوسرے بھائی بہنوں کے مقابلے بہت خراب ہے -میرے والد نے زمین بچ کر جو پیسے ہوے اور ریٹائر منٹ ک پیسے یہ سب دوسرے لوگوں کے نام کر دیے ہیں مجھے کوئی ضرورت پڑتی ہے تو مناسب خرچ نہیں دیتے اسلئے میں بہت پریشان ہوں -پتا نہیں ایک علم نے بتایا تھا کہ کوئی بندش ہے اور نحوست کا بھی اثر ہے -میں روزانہ سورہ بقرہ دن میں اور سورہ ال-حجر اور سورہ واقعہ رات میں پڑھتا ہوں - ۰۰۳ سے زیادہ دفعہ استغفراللہ بھی پڑھتا ہوں لیکن درود شریف کی کثرت پر مجھے سردی اور کھانسی ہونے لگتی ہے - اللہ کے واسطے میری رہنمایی فرمایں-اور دعا کی بھی درخواست ہے ۔

    جواب نمبر: 63356

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 358-346/N=4/1437 آپ کے والد صاحب کا آپ کی چھوٹی بہن کی وجہ سے آپ کی شادی میں تاخیر کرنا جب کہ آپ کی عمر تقریباً ۳۵/ سال ہوچکی ہے اور آپ کی چھوٹی بہن انجینئر لڑکے سے رشتہ کرنے کے انتظار میں شادی نہیں کررہی ہے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہرگز ٹھیک نہیں، بظاہر وہ حالات زمانہ کے موجودہ حالات اور اس کی نزاکتوں سے خوب باخبر معلوم نہیں ہوتے، اور مزید لائق تعجب ان کی یہ بات ہے کہ ان کے کسی دوست کی شادی ۴۵/ سال کی عمر میں ہوئی تھی؛ کیوں کہ اس نے شادی میں اتنی زیادہ تاخیر کرکے کوئی قابل تقلید کام نہیں کیا، اس کو اس سے بہت پہلے شادی کرلینی چاہئے تھی، اس نے اتنی زیادہ تاخیر کرکے شرعاً وعقلاً اچھا نہیں کیا، شادی شادی کی عمر میں ہوجانی چاہئے، اس زمانہ میں لڑکوں کی شادی کے لیے ۲۴، ۲۵/ سال کی عمر بہت ہے، اس سے زیادہ تاخیر ٹھیک نہیں، اس عمر میں لڑکے عام طور پر کھانے کمانے کے لائق ہوجاتے ہیں، الحاصل آپ کے والد صاحب کا آپ کی چھوٹی بہن کی وجہ سے آپ کی شادی میں تاخیر کرنا شرعاً نہایت نامناسب ہے، انہیں اس کا احساس ہونا چاہئے، اور آپ کے لیے جلد از جلد مناسب رشتہ تلاش کرکے آپ کی شادی کردینی چاہئے۔ اللہ تعالی انھیں ہدایت عطا فرمائیں، البتہ آپ اپنے والد صاحب؛ بلکہ والدہ صاحبہ دونوں کا احترام کریں اور نماز وغیرہ کا اہتمام رکھیں، نیز فجر اور مغرب بعد اور رات میں سوتے وقت تین بار آیت الکرسی اورتین تین بار تینوں قل کا بھی معمول بنائیں، اور بندش وغیرہ کا کوئی وہم نہ کریں، اور حلال وجائز ذریعہ معاش کے لیے یہ دعا کثرت سے پڑھا کریں: اللھم اکفني بحلالک عن حرامک وأغنني بفضلک عمن سواک (مشکوة شریف ص۲۱۶ بحوالہ: سنن ترمذی ودعوات کبیر للبیہقی) ، انشاء اللہ مناسب ذریعہ معاش حاصل ہوجائے گا، اور جلد از جلد مناسب رشتہ کے لیے بعد نماز ظہر سورہ مزمل کا معمول بنائیں، اللہ تعالی آپ کے جملہ مسائل حل فرمائیں اور سکون وعافیت کی زندگی عنایت فرمائیں، آمین۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند