• عبادات >> دیگر

    سوال نمبر: 63080

    عنوان: پراپرٹی کے کاغذات پر زکواۃ کس حساب سے دی جائے جبکہ اصل پراپرٹی کا ابھی تعین نہیں ہوا۔

    سوال: پاکستان میں مختلف ہاوسنگ سوسائٹیوں میں رہائشی و کمرشل پلاٹ بنانے اور بیچنے سے پہلے ایڈوانس رقم لی جاتی ہے اور درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور اس پر ایک کاغذی ثبوت کے طور پر ایک فائل درخواست دہندہ کو دے دی جاتی ہے ۔ درخواست دہندہ چاہے تو سوسائٹی کے پلاٹ بنانے اور قرعہ اندازی کے ذریعے درخواست گزار کو دینے تک اس فائل کو اپنے پاس رکھے یا اوپن مارکیٹ میں کچھ منافع یا نقصان کے ساتھ بیچ دے ۔ جب قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹ الاٹ ہو جاتا ہے تو فائل ہولڈر کو مزید ڈویلپمنٹ چارجز دینے ہوتے ہیں۔ اب اگر کسی نے ایسی فائل خریدی ہو جس کے ساتھ ابھی پلاٹ نہیں ملا اور وہ صاحب نصاب بھی ہو اور اس نے یہ فائل فی الحال اس نیت سے رکھی ہے کہ وہ جب بھی پلاٹ ملے گا اس پر کمرشل عمارت بنا کریا تو کرائے پر چڑھا دے گا یا اپنا کاروبار کرے گا توکیا اس فائل کو قابلِ زکوة سمجھا جائے گا یا نہیں۔ اگر ہاں تو اس پر کس حساب سے زکوة دی جائے گی۔ قیمتِ خرید پر یا اس فائل کے موجودہ مارکیٹ ویلیو پر۔ مزید براں ایسی فائل کو خریدنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 63080

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 276-797/SN=8/1437 (الف ) صورت مسئولہ میں ظاہر ہے کہ یہ ” فائل “ نہ تو حقیقت میں مبیع ہے اور نہ ہی ابھی اس کی پشت پر کوئی مادی چیز ہے؛ یہ تو محض ایک ”رسید“ ہے اس لیے اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں ہے، یہ معدوم کی بیع ہے اور حدیث میں معدوم کی بیع سے ممانعت آئی ہے؛ باقی اگر سوسائٹی کی طرف سے یہ اجازت ہو کہ ابتداء ً درخواست دہندہ کا قرعہ اندازی تک خود اپنی درخواست پر قائم رہنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ وہ کسی دوسرے کی طرف بھی ٹرانسفر کرسکتا ہے تو جمع کردہ کے بقدر رقم لے کر کسی کے حق میں دست بردارہونیکی گنجائش ہے، اس پر منافع لینا جائز نہیں ہے۔ عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا یحل سلف وبیع ․․․ولا ربح مالم تضمن ولا بیع مالیس عندک․ (أبوداوٴد، رقم ۳۵۰۴، باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ) نیز دیکھیں امداد الاحکام (۳/۳۹۴، ط : کراچی)۔ (ب) اگر پلاٹ پر عمارت تعمیر کرکے کرایہ پر دینے کا ارادہ ہے تب تو اس پر کبھی بھی زکوة واجب نہیں اگر چہ قبضہ مل جائے؛ اس لیے کہ کرایہ پر دینے کی نیت سے کوئی چیز مال تجارت نہیں بنتی؛ باقی اگر آگے اسی شکل میں یا عمارت بناکر فروخت کرنے کا ارادہ ہو تب بھی صورت مسئولہ میں اس پلاٹ پر قبضہ سے پہلے زکوة واجب نہیں ہے۔ وسببہ أي سبب افتراضہا ملک نصاب حولي ․․․تام ․․․ المراد بالتام المملوک رقبة ویداً (درمختار مع الشامی، ۳/۱۷۴، ط : زکریا) وانظر : الدرالمختار مع رد المختار (۱۹۳، ط: زکریا)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند